1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

درد شقیقہ کا باعث بننے والے جینیٹک فیکٹر کی دریافت

میگرین یا درد شقیقہ آدھے سر کے درد کو کہا جاتاہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر چھٹی خاتون جبکہ ہر بارہواں مرد میگرین میں مبتلا ہوتا ہے۔

default

اس درد کی تکلیف تو وہی لوگ جانتے ہیں جو اس میں مبتلا ہیں یا رہ چکے ہیں۔ مگرین کے دوران نہ صرف آدھے سر میں شدید تکلیف ہوتی ہے بلکہ اس دوران قے کی کیفیت بھی طاری ہوجاتی ہے۔ یورپین یونین اور امریکی افراد میں میگرین کو ایک انتہائی مہنگی ذہنی تکلیف قرار دیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ یہ تکلیف عام طور پر زندگی بھر کا روگ بھی ثاہت ہوتی ہے۔

تاہم اب اس تکلیف میں مبتلا افراد کے لئے ایک خوشخبری یہ ہے کہ سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے پہلی مرتبہ ایک ایسا جینٹک فیکٹر دریافت کیا ہے، جوعمومی درد شقیقہ کی وجہ بنتا ہے۔ ان سائنسدانوں کے مطابق اس دریافت سے میگرین کے علاج میں انقلابی پیش رفت ہوسکتی ہے۔

بین الاقوامی طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے جرمنی، ہالینڈ اور فن لینڈ سے تعلق رکھنے والے 50 ہزار باشندوں کی جینیٹک معلومات پرتحقیق کے دوران پتا لگایا کہ ایسے افراد جن میں ذہن کے ایک خاص کیمیکل کو کنٹرول کرنے والے جینیٹک میں مخصوص تغیر پایا گیا، ان کے میگرین میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس طبی تحقیق کے نتائج کے مطابق گلوٹامیٹ ‘Glutamate' نامی کیمیکل میں اضافہ میگرین کی وجہ بن سکتا ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ آرنو پالوٹی کے مطابق، ’یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے کئی ہزار افراد کے جنیٹک ڈیٹا پر تحقیق کےدوران ایسی جینیٹک تبدیلیوں کا پتا لگایا ہے جس سے عمومی میگرین کو سمجھنے کا موقع ملا ہے۔‘

آرنو پالوٹی برطانیہ کے ویلکم ٹرسٹ سانگر انسٹیٹیوٹ میں سردرد پر تحقیق کرنے والے شعبے کے سربراہ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے میگرین کو ایسی تمام وجوہات میں 19ویں نمبر پر قرار دیا ہے، جن میں سالہا سال معذوری میں گزر جاتے ہیں اور جن کی وجہ سے گھریلو اور عوامی زندگی کے علاوہ پیشہ ورانہ زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جرمن ماہرین کے اندازوں کے مطابق سال 2009ء کے دوران میگرین کی ادویات کی فروخت پر 2.6 بلین ڈالرخرچ کئے گئے۔ یوں تو کئی بڑی دوا سازکمپنیاں میگرین پر قابو پانے کی ادویات تیار کرتی ہیں، مگر اس بیماری کی اصل وجوہات کیا ہیں یہ بات ابھی تک نامعلوم تھی۔

سائنسی تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں پالوٹی کی ٹیم نے کہا ہے کہ انہوں نے میگرین کی وجہ بننے والے جس جینیٹکل تغیر کا پتہ لگایا ہے وہ PGCP اور MTDH/AEG-1 نامی جینز کے درمیان کروموسوم آٹھ پر پایا گیا ہے۔

اس تحقیق میں شامل جرمنی کی اُلم یونیورسٹی کے کرسٹیان کیوبِش کے مطابق ان نتائج نے میگرین کے خواص جاننے اور موجودہ نتائج کا درست اثر معلوم کرنے کے لئے نئی تحقیق کا راستہ کھول دیا ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس