1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

درختوں کی ماں: ونگاری ماتھائی چل بسیں

کینیا سے تعلق رکھنے والی تحفظ ماحول کی سرگرم کارکن اور نوبل انعام یافتہ ونگاری ما تھائی انتقال کر گئی ہیں۔ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھیں۔ انہیں2004ء میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

default

کینیا سے تعلق رکھنے والی ونگاری ماتھائی پہلی افریقی خاتون تھیں، جنہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ وہ کافی عرصے سےکینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔ ان کی عمر اکہتر برس تھی۔ ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پرکینیا کی سب سے مشہور اور قابل احترام خاتون تھیں۔ وہ تحفظ ماحول کی غیر سرکاری تنظیم گرین بیلٹ موومنٹ کی بانی تھیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ تین دہائیوں تک ماحول بہتر بنانےکے لیے مصروف رہیں۔

غریب خواتین کو اپنی تنظیم کا حصہ بنا کر انہوں نے تیس ملین درخت لگائے۔ نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ کینیا میں جابرانہ حکومت کے خلاف آواز بلند کرنےکا ماتھائی نے منفرد طریقہ اپنایا تھا۔ کمیٹی کا ریفرنس کینیا میں صدر ڈینئل ارپ موئی کے سیاسی جبر کے حوالے سے تھا۔

Wangari Maathai

ونگائی ماتھائی کو درختوں کی ماں بھی کہا جاتا تھا

ماتھائی نے کمرشل بنیادوں پر کینیا کے جنگلات کی کٹائی کے بعد ویران ہونے والے مقامات پر نئے درخت اگانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ابتداء میں گرین بیلٹ موومنٹ کے کردار میں سیاسی اصلاحات اور جمہوری روایات کا فروغ شامل نہیں تھا۔ تاہم بعد کی پیش رفت کے حوالے سے ماتھائی کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے کی بنیاد بہتر حکومت سازی میں پوشیدہ ہے اور یہ جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کا ترقیاتی ادارہ UNDP ماتھائی کو براعظم افریقہ میں تحفظ ماحولیات کا اولین رہبر خیال کرتا تھا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیات کے ادارے UNEP کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آشیم سٹائنر نے ماتھائی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں فطرت کی ایک پرزور قوت قرار دیا ہے۔ سٹائنر کا مزید کہنا تھا کہ ماتھائی ایک بلند ہمت خاتون تھیں اور وہ ماحول کو نقصان پہنچانے والوں کے راستے کی دیوار تھیں۔ ایک اور نوبل انعام یافتہ افریقی شخصیت آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹو ٹو نے ماتھائی کو افریقہ کی سچی ہیروئن قرار دیا ہے۔

رپورٹ:  عدنان اسحاق

ادارت: حماد کیانی

DW.COM