1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

درجنوں افغان شہریوں کی ہلاکت امریکی فوجیوں کا ’دفاعی اقدام‘ تھا

امریکی فوج کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے شہر قندوز میں گزشتہ برس نومبر میں درجنوں افغان شہری ہلاک ہوئے تھے لیکن یہ ہلاکتیں وہاں امریکی اسپیشل فورسز کی اپنے ’ذاتی دفاع‘ میں کی گئی کارروائی کا نتیجہ تھیں۔

Afghanistan Kundus Trauer für Opfer von Kämpfen (Reuters/N. Wakif)

بوز نامی گاؤں میں اس کارروائی میں 33 افغان شہری مارے گئے تھے

افغان دارالحکومت کابل سے جمعرات بارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق شمالی افغان شہر قندوز میں نومبر  2016ء میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کی ایک مسلح کارروائی میں 33 عام شہری ہلاک اور 27 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

افغانستان: ہلاکتوں کی تعداد 58، پانچ عرب سفارت کار بھی ہلاک

افغانستان ميں طالبان کے ليے محفوظ زون؟

روس کی افغانستان میں دلچسپی اچانک کیوں بڑھ گئی ہے؟

اب اس بارے میں امریکی فوج کی طرف سے چھان بین کے بعد جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھی یہ تصدیق تو کر دی گئی ہے کہ قریب دو ماہ قبل قندوز میں درجنوں افغان شہری مارے گئے تھے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان شہری ہلاکتوں کے ذمے دار امریکی فوجیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ انہوں نے یہ ’آپریشن اپنے دفاع میں‘ کیا تھا۔

آج بارہ جنوری کو شائع کردہ اس تفتیشی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب امریکی اسپیشل فورسز اور ان کے اتحادی افغان خصوصی دستوں نے شمالی افغان شہر قندوز کے نواح میں بوز نامی گاؤں میں طالبان عسکریت پسندوں کے ایک حملے کا جواب دیتے ہوئے فائرنگ کی تھی اور ساتھ ہی فضائی حملے کے لیے امداد بھی طلب کر لی تھی۔

US-Soldaten in Afghanistan (Getty Images/AFP/W. Kohsar)

قندوز میں افغان فوج کے ایک ٹرک پر سوار ہو کر گشت کرتے امریکی اسپیشل فورسز کے ارکان

افغانستان میں امریکی فوج کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’اس واقعے کے بارے میں امریکی فوجی چھان بین کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ امریکی اسپیشل فورسز نے مسلح تنازعے کے قانون کے تحت اور تمام مروجہ ضابطوں اور پالیسیوں کے عین مطابق بوز میں یہ کارروائی اپنے دفاع میں کی۔‘‘

روئٹرز نے لکھا ہے کہ امریکی اور افغان اسپیشل فورسز نے درجنوں شہری ہلاکتوں کا باعث بننے والی یہ کارروائی اس وقت کی تھی جب وہ قندوز شہر کے نواح سے طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

Afghanistan neuer Nato-Oberbefehlshaber General John Nicholson (Reuters/R. Gul)

افغانستان میں امریکی فوجی دستوں کے کمانڈر جنرل جان نکلسن

تب اس کارروائی سے کچھ ہی عرصہ پہلے گزشتہ برس اکتوبر میں طالبان قندوز شہر کے اتنے نزدیک تک پہنچ گئے تھے کہ ان کی طرف سے اس شمالی افغان شہر پر قبضہ کر لینے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

امریکی فوج کے بیان کے مطابق اس آپریشن کے وقت امریکی دستے وہاں عام شہریوں کے گھروں کو اپنی عسکری پوزیشنوں کے طور پر استعمال کرنے والے طالبان شدت پسندوں کی طرف سے شدید فائرنگ کی زد میں آ گئے تھے اور خصوصی دستوں نے فضائی حملے کے لیے مدد اس لیے بھی طلب کی تھی کہ تب تک انہیں کافی جانی نقصان بھی برداشت کرنا پڑ گیا تھا۔

یہ کہتے ہوئے کہ ان امریکی فوجیوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، اس رپورٹ کے اجراء کی مناسبت سے افغانستان میں امریکی فوجی دستوں کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا، ’’حالات کچھ بھی رہے ہوں، مجھے معصوم شہریوں کی ہلاکت کے اس واقعے پر دلی افسوس ہے اور افغان شہریوں کی حفاظت کے لیے آئندہ بھی ہر ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘

DW.COM