1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

دباؤ کی شکار جرمن چانسلر ترکی کی جانب سے اقدامات کی منتظر

مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں جرمن چانسلر پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امکان ظاہر کيا جا رہا ہے کہ وہ آج برلن ميں ترک وزير اعظم احمد داؤد اوگلو کے ساتھ بات چيت ميں ترکی سے مہاجرين کے بہاؤ کو روکنے کے ليے دباؤ ڈاليں گی۔

يورپ کو درپيش پناہ گزينوں کے بحران ميں جرمنی اور ترکی کليدی اہميت کے حامل ہيں۔ ترک وزير اعظم احمد داؤد اوگلو آج بروز جمعہ جرمن دارالحکومت برلن کا دورہ کر رہے ہيں، جس ميں وہ جرمن چانسلر سے ملاقات کريں گے۔

اطلاعات ہيں کہ انگيلا ميرکل ترک قيادت پر زور ڈاليں گی کہ وہ گزشتہ برس نومبر ميں طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ترکی کے راستے يورپ پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد ميں کمی لائيں۔ يہ امر اہم ہے کہ اب بھی يوميہ بنيادوں پر دو سے تين ہزار تارکين وطن ترکی سے يونانی ساحلوں تک پہنچ رہے ہيں۔

دوسری جانب يورپی يونين کی جانب سے بھی تاحال معاہدے کی شرائط پوری نہيں کی گئی ہيں۔ رکن ممالک ابھی تک اسی بحث ميں پڑے ہوئے ہيں کہ ترکی ميں مقيم تقريباً 2.2 ملين شامی پناہ گزينوں کی ديکھ بھال کے ليے انقرہ کو تين بلين يورو کی مالی امداد ميں رکن ممالک کتنی کتنی رقم ادا کريں۔

ايک روز قبل احمد داؤد اوگلو نے کہا تھا کہ وہ دورہ برلن ميں مالی امداد کا ذکر تک نہيں کريں گے بلکہ ان کا مطالبہ ہو گا کہ يوری يونين پناہ گزينوں کی آمد روکنے کے ليے اپنے ہاں پختہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا، ’’نہ ہم رقوم مانگ رہے ہيں اور نہ ہم اس بارے ميں بات کر رہے ہيں۔ ہمارے ليے يہ انسانی بنيادوں پر ايک ذمہ داری ہے اور اس ليے يہ مسئلہ مالی امداد کا نہيں۔‘‘ جرمن اخبار ’ڈی ويلٹ‘ کے مطابق يہ بھی ممکن ہے کہ برلن حکومت اس موقع پر انقرہ کے ليے اضافی مالی امداد کا اعلان کرے۔

ترکی کے راستے ان دنوں بھی روزانہ دو سے تين ہزار پناہ گزين يونان پہنچ رہے ہيں

ترکی کے راستے ان دنوں بھی روزانہ دو سے تين ہزار پناہ گزين يونان پہنچ رہے ہيں

بائيس جنوری کے روز برلن ميں ہونے والی ملاقات کا نتيجہ نہ صرف دباؤ کی شکار جرمن چانسلر کے ليے کافی اہم ثابت ہو گا بلکہ اس کے يورپی سطح پر اثرات بھی ديکھے جائيں گے۔ اٹھائيس رکنی يورپی یونین کی سطح پر دن بدن تارکين وطن کے حوالے سے عوام کا موقف سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔

ترکی اور جرمنی کافی گہرے باہمی تعلقات کے حامل ممالک ہيں اور دونوں ملک ايک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر بھی ہيں۔ آج ہونے والے مذاکرات خصوصی حکومتی مشاورت پر مبنی ہوں گے۔ اس طرز کے مذاکرات جرمنی صرف چند ايک ہی ممالک کے ساتھ کرتا ہے۔ مذاکرات ميں دونوں ملکوں کے وزرائے داخلہ، وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع بھی شريک ہيں۔