1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دبئی ٹیسٹ: پاکستان کے سامنے ریکارڈ ہدف

خلیجی ریاست دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے آخری دن پاکستان کو میچ بچانے کی سر توڑ کوشش کرنا ہو گی۔

default

ژاک کیلس

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دبئی ٹیسٹ بچانے کے لئے کھیل کے آخری روز تمام 90 اوورز کھیلنے ہوں گے جبکہ اس کی دو وکٹیں 109 کے سکور پر پہلے ہی گرچکی ہیں۔

ٹیسٹ سیریز کے پہلےمیچ کے چوتھے دن جنوبی افریقہ کے بلے بازوں ہاشم آملہ اور ژاک کیلس نے پاکستان کے خلاف ریکارڈ اور ناقابل شکست 242 رنز کی شراکت قائم کی۔ یہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جنوبی افریقن جوڑی کی جانب سے بنائی گئی سب سے بڑی پارٹنر شپ ہے۔ دونوں بلے بازوں نے سنچریاں بنائیں۔ کالس نے 135 جبکہ آملہ نے 118 رنز بنائے۔ کالس نے اپنی سنچری کو آٹھ چوکوں اور چار بلند و بالا چھکوں سے سجایا۔ چوتھے دن پاکستانی گیند باز جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کسی کھلاڑی کو آؤٹ نہیں کر سکے تھے۔ جنوبی افریقن ٹیم کی دوسری اننگز میں دو وکٹیں میچ کے تیسرے روز گری تھیں۔ جنوبی افریقہ نے دوسری اننگز میں 318 رنز بنا کر اننگز ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

Kricket Waqar Younis

پاکستانی کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ صبح کا سیشن انتہائی اہم ہوگا

چوتھے دن کھیل کے اختتام پر تجربہ کار بلے باز یونس خان گیارہ جبکہ اظہر علی 37 رنز کے ساتھ کریز پر کھڑے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے ریکارڈ 451 رنز کا ہدف ملنے کے بعد توفیق عمر اور محمد حفیظ کی اوپننگ جوڑی نے پاکستان کو 41 رنز کا قدرے پر اعتماد آغاز فراہم کیا۔ پاکستانی ٹیم کی انہی افتتاحی بلے بازوں نے پہلی اننگز میں 105 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔

پہلی اننگز میں یونس خان اور اظہر نے ٹیم کو قدرے سہارا ضرور دیا تھا لیکن وہ سکور کو بہتر پوزیشن میں لانے میں ناکام رہے تھے۔ پاکستانی بلے بازوں میں یقینی طور پر ٹیسٹ کرکٹ کم کھیلنے کا رجحان دکھائی دیتا ہے۔ پانچویں دن دبئی گراؤنڈ کی پچ پر ژوہان بوتھا گیند کو سپن کرانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے بڑا ہدف ویسٹ انڈیز نے عبور کیا ہے جس نے 2003ء میں اینٹیگا کے میدان پر آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے 418 رنز کے انتہائی بڑے ٹارگٹ کا حصول کیا تھا۔ پاکستانی ٹیم نے اب تک دوسری اننگز میں جو سب سے بڑا ہدف عبور کیا ہے وہ بھی آسٹریلیا کے خلاف ہے۔ سن 1994ء میں کراچی کے میدان پر پاکستانی کھلاڑیوں نے 315 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔

ایک بات جو پاکستانی ٹیبم میں اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے وہ یہ کہ پاکستان نے تین سال قبل لاہور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں 316 ربنز بناکر جنوبی افریقہ کی یقینی جیت کا راستہ روک لیا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ پاکستانی ٹیم نے اب تک کسی بھی ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں چار سو رنز نہیں بنائے۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ وقار یونس کا کہنا ہے، ’’ کرکٹ ایک عجیب کھیل ہے، اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، اگر ہم صبح کا سیشن کامیابی سے کھیلنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ فیصلہ کرسکے کہ اب کیسے کھیلنا ہے‘۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس