1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دبئی میں عام شہری کی پریشانی پر پولیس بھی پریشان ہو سکتی ہے

خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات میں شامل دبئی کے معاشی و سماجی حالات پر وہاں کے مکین بظاہر پرسکون دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر صورت حال اسی انداز میں رہی تو اِس کی عالمی رینکنگ مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

دبئی کا کوئی مکین اگر انتظامیہ یا پولیس کو مطلع کرے کہ وہ پریشانی سے دوچار ہے تو پولیس حرکت میں آ جائے گی اور وہ اُس شخص کو پولیس اسٹیشن طلب کر کے یا ٹیلی فون کے ذریعے معلومات حاصل کرے گی کہ وہ کیوں پریشانی کا شکار ہے۔ دبئی کے امور پر نظر رکھنے والے مبصرین اِس حوالے سے پریشان شہری کو پولیس اسٹیشن بلائے جانے پر تذبذب کا شکار ہیں۔ ان میں ایک لندن یونیورسٹی سے منسلک ٹیچر ولیم ڈیوس بھی ہیں۔ دوسری جانب سماجیات کے عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دبئی کی ریاست نے اپنی اقتصادی، انتظامی اور معاشرتی حالات کے لیے مثبت رویہ اپنائے رکھتی ہے تو سن 2021 میں یہ شہر دنیا کے اُن دس شہروں میں شامل ہو سکتا ہے، جہاں عام لوگ زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیں گے۔

برطانیہ کی لندن یونیورسٹی کےسینیئر لیکچرر ولیم ڈیوس نے حال ہی میں ایک کتاب مرتب کر کے شائع کی ہے۔ اِس کتاب کا نام ’خوشی کی صنعت، حکومتیں اور بڑے کاروباری ادارے کیسے خوش حالی کا بزنس کرتے ہیں‘۔ انگریزی میں اِس کتاب کا نام Big Business The Happiness Industry: How the Government and

Sold US Well-Being ہے۔ پریشانی پر پولیس اسٹیشن بلانے کے حوالے سے ڈیوس کا خیال ہے کہ یہ عام لوگوں میں خوف پیدا ہونے کا امکان ہے کیوں کہ پولیس کو ٹیلی فون کرنا ’آ بیل مجھے مار‘ کے مساوی بھی ہو سکتا ہے۔

+

دنیا کے 158 ملکوں میں اچھی اور مناسب زندگی کے حامل شہروں میں دبئی کا مقام بیسواں ہے

متحدہ عرب امارات کے اتحاد میں سات ریاستیں شامل ہیں اور اِن میں دبئی کو انتظامی، معاشی اور سماجی ترقی کے تناظر میں ایک مخصوص مقام حاصل ہے۔ شہری بلدیہ یا میونسپل دفاتر میں لوگوں کو فراہم کیے گئے اطمینان و شادمانی کے حوالے سے کسی بھی شہری کی شکایت کے فوری تدارک کے لیے ہر ملازم کی میز پر ایک کمپیوٹر ٹیبلٹ نصب کر دیا گیا ہے۔ شہری انتظامیہ نے سرکاری ملازمین کی کارکردگی کے جائزے کے لیے اسٹار سسٹم بھی متعارف کیا ہے۔ لوگوں کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کے عمل اور سلیقے کو اسٹار دینے کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ دبئی کے حکام نے اِسے ’اسمارٹ گورنمنٹ‘ کا ایک سلسلہ قرار دیا ہے۔

دبئی پولیس کی تیز رفتار نقل و حمل کے لیے بیش قیمت گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ’آپ کا تحفظ اُن کی مسرت کا باعث ہے‘۔ خوشحالی و مسرت جانچنے کے لیے پولیس نے عوامی رائے عامہ پر مبنی ایک سروے بھی مکمل کیا ہے۔ اِس سروے کا عنوان تھا ’ کیا آپ دبئی میں خوشی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں؟‘۔ پولیس کے مطابق آن لائن جوابات دو لاکھ افراد نے دیے۔ ان میں سے چوراسی فیصد نے دبئی کے سماجی و انتظامی حالات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ چھ فیصد غیر جانب دار اور دس فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دبئی پولیس کے سربراہ میجر جنرل خمیس مطار المزینہ کا کہنا ہے کہ عدم اطمینان کا اظہار کرنے والوں کو ٹیلیفون کر کے پولیس نے یہ پوچھنے کی ضرور کوشش کی کہ اگر اُن کی پریشانی پولیس کے دائرہٴ کار میں ہے تو اُسے فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 158 ملکوں میں اچھی اور مناسب زندگی کے حامل شہروں میں دبئی کا مقام بیسواں ہے۔ س ارے عرب ورلڈ میں یہ پہلی پوزیشن ہے۔