1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دبئی میں ایک بار پھر موتیوں کی چمک

خلیج کے ریگستانی ساحلوں پر موتی تلاش کرنے کا سلسلہ صدیوں پہلے ختم ہوچکا ہے مگر یہاں موجود آسمان کی بلندی کو چھونے والے شاپنگ سینٹرز قیمتی موتی فروخت کرنے والوں کو ایک بار پھر اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔

default

خطے کے سب سے بڑے صرافہ بازار تصور کیے جانے والے دبئی شہر میں لگ بھگ 40 ملین ڈالر مالیت کے موتیوں کی نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں بیش قیمت جواہرات بنانے والی کمپنیاں خوشحال عرب خواتین سے کھل کر خریداری کرنے کے لیے پر امید ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ لگ بھگ ایک صدی قبل خطے کے مچھیرے خلیج فارس کے گہرے پانی میں موتی تلاش کیا کرتے تھے۔ انہی علاقوں پر آج کا متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین آباد ہیں۔

Flash-Galerie Burj Dubai Dubai Tower

دبئی کا برج خلیفہ

خبر رساں ادارے روئٹرز نے کچھ ایسے ہی سابقہ مچھیروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ دن بھر کئی کئی منٹ تک سانس روک کر پانی میں موتی تلاش کرکے روزی روٹی کماتے تھے۔

سمندر سے موتی تلاش کرکے فروخت کرنے کی اس صنعت کو 1900ء میں اس وقت دھچکہ لگا، جب جاپانیوں نے مصنوعی طریقے سے بالکل اصل جیسے موتی بنانا شروع کیے۔ اس کے بعد خطے میں تیل کی دریافت سے ان ریگستان نما علاقوں کے چھوٹے چھوٹے دیہاتون میں دولت کی ریل پیل ہوئی اور سٹیل، شیشے و کنکریٹ کی بلند و بالا عمارتیں بنیں۔ دبئی میں اب ایک بار پھر قیمتی موتی خریداروں کی راہ تکتے رہے ہیں۔ یہاں منعقدہ نمائش میں لگ بھگ 40 ملین ڈالر مالیت کے موتی سجائے گئے۔

یہ مشرق بعید سے باہر موتیوں کی سب سے بڑی نمائش تھی، جس میں کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے سٹال لگا رکھے تھے۔ موتی بنانے والی کمپنی Jewelmar سے وابستہ Pierre Fallourd بہت پراعتماد ہیں کہ موتی ایک بار پھر جدید زیبائش کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کے بقول عین ممکن ہے کہ خلیجی ممالک کے بڑھتی ہوئی استطاعت کی وجہ سے موتیوں کی فروخت کے رجحانات میں تبدیلی آئے۔ ان کے بقول، ’’ ہم یہاں کی مڈل اور اپر کلاس پر نظر رکھے ہوئے ہیں، یہاں کی مڈل کلاس بھی دیگر ممالک کی اپر کلاس سے کم نہیں۔‘

Burj Al Arab Hotel in Dubai

تیل کی دریافت سے قبل اس خطے میں مچھیروں کے چھوٹے چھوٹے دیہات ہوا کرتے تھے

دبئی کے الماس ٹاور میں منعقد کی گئی اس نمائش میں جن بڑی بین الاقوامی موتی ساز کمپنیوں نے شرکت کی ان میں Robert Wan اور Paspaley بھی شامل تھی۔

دبئی کا محل وقوع بھی اس معاملے میں اُس کی اہمیت کو بڑھا دیتا ہے۔ یہ یورپ جوکہ موتیوں کے استعمال کے حوالے سے سرفہرست ہے اور ایشیا جو اس کی پیداوار کا مرکز تصور کیا جاتا ہے، دونوں کے درمیان واقع ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM