1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دبئی ميں رمضان ميں اور زيادہ کھانا ضائع

دبئی ميں مختلف ايشيائی ممالک کے ہزاروں افراد ملازمت کرتے ہيں۔ ان ميں سے اکثريت محنت مزدوری کرنے والوں کی ہے، جن ميں بہت بڑی تعداد ميں مسلمان بھی شامل ہيں۔

دبئی کی مالی منڈی

دبئی کی مالی منڈی

دبئی کی فاطمہ حسن مسجد کے باہر فرش پر افطار کا بہت وسيع پيمانے پر انتظام کيا جاتا ہے۔ سورج غروب ہونے سے پہلے يہاں سينکڑوں کی تعداد ميں لوگ افطار کے ليے جمع ہو جاتے ہيں۔ بڑی بڑی ديگوں ميں بريانی اور دوسرے کھانوں کے علاوہ کثرت سے پھل اور مٹھائياں بھی روزہ داروں کے ليے لائی جاتی ہيں۔ پليٹوں ميں پکوڑے بھی رکھے جاتے ہيں۔

فاطمہ حسن مسجد دبئی کے مرکز ميں واقع ہے۔ يہاں ماہ رمضان ميں غرباء کے ليے روزانہ مفت افطار کا انتظام کيا جاتا ہے۔ چاول، گوشت اور مرغی وغيرہ کے سالن اتنی کثير مقدار ميں پکائے جاتے ہيں کہ وہ ايک مرتبہ ميں 1500 سے لے کر 1800 روزے داروں کے ليے کافی ہوتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ فاطمہ حسن مسجد کے کوڑے کے ڈرم خالی ہوں کيونکہ يہاں افطار کے ليے آنے والے غرباء تو يقيناً کھانا پھينکنے والوں ميں نہيں ہو سکتے ليکن شہر بھر ميں افطار کی جو پر تعيش تقريبات ہوتی ہيں اُن ميں بڑی مقدار ميں کھانے پينے کی چيزيں ضائع کی جاتی ہيں۔ اس کے علاوہ يہ بھی ہے کہ اس گرم مرطوب آب و ہوا والے خطے ميں تازہ کھانا جلد خراب ہو جاتا ہے۔

دبئی ميں کام کرنے والے تارکين وطن مزدور زيادہ تر غريب ہی ہيں۔ انہيں 1000 درہم يا 272 امريکی ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی ہے اور اکثر وہ بہت مقروض بھی ہوتے ہيں۔

دبئی کا مرکزی حصہ، برج الخليفہ

دبئی کا مرکزی حصہ، برج الخليفہ

پچھلے 50 برسوں کے اندر دبئی علاقائی اور بين الاقوامی تجارت اور سياحت کا ايک بڑا مرکز بن گيا ہے۔ يہاں بڑے اور پر تعيش ہوٹل ہيں، جن ميں امراء پر تکلف افطار پارٹياں بھی مناتے ہيں۔ دبئی کے اعلٰی درجے کے ہوٹلوں ميں روزہ افطار کرنے کے ليے 200 درہم يا 55 امريکی ڈالر فی کس تک بھی ادا کرنا پڑتے ہيں، جو کہ اچھی خاصی رقم ہے۔

دبئی کا انڈر گراؤنڈ اسٹيشن

دبئی کا انڈر گراؤنڈ اسٹيشن

دبئی کے بڑے ہوٹلوں کے ملازمين کا کہنا ہے کہ بہت وقت اور پيسہ خرچ کرکے تيار ہونے والے کھانوں کا تقريباً تمام بچ جانے والا حصہ سيدھا کوڑے ميں پھينک ديا جاتا ہے۔ دبئی ميونسپلٹی کے مطابق رمضان ميں پھينکے جانے والے کھانے کی مقدار ميں 20 فيصد تک کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

قريبی ابو ظبی ميں، جو متحدہ عرب امارات کا دار الحکومت ہے، پچھلے سال رمضان ميں روزانہ 500 ٹن کھانے پينے کی چيزيں پھينکی گئيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: امتياز احمد

DW.COM