1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دبئی: عیش نہیں، کیش کے بوجھ تلے

اگر آپ کو یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید عالمگیر اقتصادی بحران کے خطرات کم ہونا شروع ہوگئے ہیں، تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے! دبئی کی مالی پریشانیوں نے ایشیائی اور یورپی حصص بازاروں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

default

حکومتی انوسٹمنٹ کمپنی ’دبئی ورلڈ‘ کی طرف سے قرضہ چکانے کے لئے مزید چھ ماہ کی مہلت کا مطالبہ سامنے آنے کے ساتھ ہی دبئی کی مالی دشواریوں کا تھوڑا بہت اندازہ ہونے لگا۔ اس خبر کے فوراً بعد ہی ایشیائی بازار حصص پر خطرات کے بادل منڈلاتے نظر آئے۔ اور یوں ٹوکیو، ہانگ کانگ اور ممبئی کی سٹاک مارکیٹوں پر مندی چھا گئی۔ ٹوکیو کا نکّئی انڈکس 3.2 فیصد گر کر 9081.52 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اس سے قبل نکّئی جولائی میں اتنے پوائنٹ نیچے آیا تھا۔ ہانگ کانگ کے بازار میں بھی تقریباً پانچ فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

Japan Finanzkrise Börse in Tokio

ٹوکیو نکّی انڈکس

دبئی کی مالی مشکلات اور ایشیائی مالی منڈیوں پر اس کے منفی اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارت کے مرکزی بینک کے گورنر دووُری سُبا راوٴ نے حیدر آباد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جلدبازی میں ردّعمل ظاہر کرنے کے بجائے پہلے ’’مسئلے کی نوعیت کا مطالعہ اور اس کی حد کو سمجھنا ضروری ہے۔‘‘

دوسری جانب ’ویسٹ پیک گلوبل مارکیٹس گروپ‘ سے وابستہ ایک سٹریٹیجسٹ رابرٹ رینی نے بتایا کہ دبئی کی مالی دشواری ایک اور یاد دہانی ہے کہ ’’عالمگیر مالیاتی بحران بھلایا گیا ہے، تاہم وہ ختم نہیں ہوا ہے۔‘‘

Anzeigentafel an der Börse in Bombay verkündet den Rekord Börsenindex von 20.000 Punkten

دبئی سے بری خبر کے بعد ممبئی سٹاک ایکسچینج پر بھی بادل منڈلاتے نظر آئے

ادھر حصص کی یورپی منڈیوں میں بھی سات ماہ کی شدید ترین مندی دیکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ بھی ’دبئی ورلڈ‘ کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں چھ ماہ کی تاخیر کے اعلان کو ہی قراردیا جارہا ہے۔

دبئی میں تعمیراتی شعبے سے متعلق اس سب سے بڑے حکومتی ادارے کو اس وقت زبردست اور شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ ’دبئی ورلڈ‘ کے متعدد تعمیراتی منصوبے اسی بحران کے باعث تاحال التوا کے شکار ہیں۔

Foodcourt in Dubai

دبئی کا فوڈ کورٹ

تاہم اقتصادی ماہر عالیہ مبعید نے بتایا کہ دبئی خطیر رقوم قرضے میں حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ آئندہ بھی وہ اس مقصد میں آسانی سے کامیاب ہوجائے گا۔’’دبئی نے صرف گزشتہ چند مہینوں میں چھ تا دس ارب ڈالر کی رقوم قرضوں کے طور پر حاصل کی ہیں۔‘‘ مبعید کے مطابق دبئی کی مشکلات کے حل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے مالی اداروں کے نظام کو بہتر بنانے اور قرضے چکانے کے حوالے سے کیسا منصوبہ تیار کرتا ہے۔ عالیہ مبعید نے تاہم امید ظاہر کی کہ دبئی میں یہ سب کچھ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

’دبئی ورلڈ‘ نامی اس کمپنی پر کُل 59 ارب ڈالر کا قرض ہے جبکہ دبئی پر مجموعی طور پر 80 بلین ڈالر کے قرضے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بے انتہا ترقی کرنے والی دبئی کی معیشت سن دو ہزار آٹھ کے اواخر سے مشکلات کا شکار ہونے لگی۔ اسی وجہ سے دبئی ميں املاک کی قیمتوں ميں زبردست گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ آگے جو کچھ بھی ہو، ایک بات طے ہے کہ ریگستان میں جزیرے بنانے والی اور پاکستان سے افریقہ تک نئے شہر اور یورپی سٹائل کے ’شاپنگ مالز‘ کے منصوبے تیار کرنے والی کمپنی ’دبئی ورلڈ‘ کی ساکھ بہت حد تک متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: مقبول ملک