1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دبئی: خون پسینہ‘عیش اور کیش بھی

سورج اپنے جوبن پر ہے‘ درجہ حرارت چھیالیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور سر کا پسینہ ماتھے سے بہتا ہوا آنکھوں تک پہنچ رہا ہے۔ ہونٹوں پر خشکی جمی ہوئی ہے‘ یہ ایک غیر ملکی مزدور ہے جو دبئی میں زیر تعمیر ایک عمارت میں کام کر رہا ہے۔

default

دبئی کے پائین شہر ’بُرج‘ کوخوبصورت بنانے کے لئے جنوبی ایشیا کے ہزاروں افراد وہاں کام کرتے ہیں

مزدوروں کے لئے دبئی ایک تھکا دینے والا ملک ہے۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رُخ ہے۔

دوسرا رُخ عیش و آرام کی کہانی ہے۔ شراب کی بوتلیں ٹھنڈی ہونے کے لئے برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں پڑی ہیں۔ ہاتھوں میں لئے ہوئے سگار‘ یہاں سے گُزرنے والی حسین لڑکیوں کے جدید ڈیزائن کے جوتوں کی ایڑیوں سے موٹے ہیں۔ یورپ سے منگائے گئے سفید صوفے پر ایک عرب نوجوان اپنی دو خواتین دوستوں کے ساتھ مست ہے۔ اور پاس ہی لندن سے آیا ہوا ایک تاجر گول صوفے پر بیٹھا ہے۔ یہ دبئی کے ایک آرام دہ ہوٹل کا بار نمبر چوالیس ہے۔

VAE Auto Maybach in Dubai

مرسڈیز بینز کار

مقامی عرب لوگوں کے علاوہ عیش وآرام صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو یہاں پرتعطیلات منانے آتے ہیں۔ وہ بہترین ریستورانوں میں کھانا کھاتے ہیں، تھائی مساج سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور بڑی بڑی اور آرام دہ اے۔ سی گاڑیوں میں بیٹھ کر صحرا کی سیر کرتے ہیں۔

دبئی میں کام کرنے والوں کی بڑی تعداد بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے افراد پر مشتمل ہے جو کہ ماہانہ سات سو درہم کمانے کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں۔ یہ سب لوگ آنکھوں میں بڑے بڑے خواب سجا کر اس خلیجی ریاست کا رخ کرتے ہیں۔

دبئی میں رہنے والے ایک بھارتی کہتے ہیں: "ہم جیسے لوگ یہاں بچت کے لئے نہیں بلکہ اپنےاور اپنی فیملیز کے لئے دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے آتے ہیں"۔

دبئی کی نوے فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات کی اس ریاست میں ایک طویل عرصے تک تین موضوعات پر کھل کر بات نہیں کی گئی۔ ایک یہ کہ اونٹ ریس میں سمگل شدہ چھوٹے بچوں کا استعمال، دوسرا جسم فروشی‘ اور تیسرا یہاں کام کرنے والے ان مزدوروں کے حالات جو کہ ماہانہ ایک سو ڈالر گھر بھیجنے اور ویزے کی مدت بڑھانے کی خاطر سارا دن تپتی ہوئی دھوپ اور صحراٴوں میں خون پسینا ایک کرتے ہیں۔