1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دبئی: ایک پاکستانی قتل: سترہ بھارتیوں کو موت کی سزا

خلیجی ملک متحدہ عرب امارات بنیادی طور پر سات ریاستوں کا مجموعہ ہے اور اِن ریاستوں میں فوجداری مقدمات کا فیصلہ اسلامی شریعت کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔

default

متحدہ عرب امارت کی ایک ریاست شارجہ میں ایک پاکستانی تارک وطن کو قتل کرنے کے جرم میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت مقامی شرعی عدالت نے سترہ بھارتی تارکین وطن کو موت کی سزا سنائی ہے۔ یہ سترہ افراد شراب کے غیر قانونی دھندے اور بعد میں پیدا ہونے والے ایک جھگڑے میں بھی ملوث تھے۔

متحدہ عرب امارت میں کسی ایک قتل کے مقدمے میں اِس فیصلے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو سزا سنائی گئی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اِن ریاستوں میں فوجداری مقدمات خاصے کم ہیں اور اُس کی وجہ جرائم کی کم تعداد ہے۔ فوجداری مقدمات میں سخت سزاؤں کا نفاذ ہے۔

عدالت نے قتل کے اِس مقدمے میں ملوث افراد کے جائے وقوعہ سے ملنے والے نشانات کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا تا کہ تمام مجرموں کی صحیح شناخت ممکن ہو سکے۔ مقتول کو چاقو کے پے درپے واروں سے ہلاک کیا گیا تھا۔ امارات کی وزارت انصاف نے بھی عدلتی فیصلے کی تصدیق کردی ہے۔

وقوعے میں زخمی اور بعد میں بچ جانے والے تین اور پاکستانیوں نے عدالت میں بتایا تھا کہ اُن پر پچاس افراد نے چاقو کے وار کئے تھے۔

Burj-al-Arab

شارجہ کے برعکس دبئی کے ساحلی علاقوں پر شراب کی دکانیں ہیں اور کاروباری مارکیٹوں کے قریب کئی نائٹ کلبوں میں یہ کھلے عام دستیاب ہے

سزا پانے والے بھارتی تمام کے تمام نوجوان ہیں۔

ماتحت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی مجرموں کوحاصل ہے۔ اعلیٰ عدالت سزا کو معطل یا بحال رکھنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اِس اپیل کے فیصلے کے بعد ہی صدر امارات کو معافی کی اپیل ممکن ہو سکے گی۔ تمام اپیلوں کے بعد عدالتی فیصلے پر عمل ہو گا۔

متحدہ عرب امارت کی سات ریاستوں میں شارجہ واحد ریاست ہے جہاں شراب کا رکھنا اور استعمال کلی طور پر ممنوع ہے۔ شارجہ کے پہلو میں واقع دبئی میں وہاں کے ساحلی علاقوں پر شراب کی دکانیں اور کاروباری مارکیٹوں کے قریب کئی نائٹ کلبوں میں یہ کھلے عام دستیاب ہے۔

عرب امارت کی کل آبادی کا دوتہائی حصہ غیرملکی تارکین وطن ہیں اور اُن میں بھی پاکستانی اور بھارتی کثیر تعداد میں ہیں۔

رپورٹ : عابد حسین

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM