داووس: افغان فنکاراؤں پر مشتمل ’زہرہ آرکسٹرا‘ کی پرفارمنس | فن و ثقافت | DW | 18.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

داووس: افغان فنکاراؤں پر مشتمل ’زہرہ آرکسٹرا‘ کی پرفارمنس

تیرہ سے لے کر بیس برس تک کی پینتیس افغان فنکاراؤں مشتمل ’زہرہ آرکسٹرا‘ داووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ فنکارائیں مغربی اور افغان دونوں طرح کے آلاتِ موسیقی بجانے کی ماہر ہیں۔

دارالحکومت کابل کا مختلف طرح کے ساز بجانے والی فنکار لڑکیوں پر مشتمل یہ آرکسٹرا سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام داووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے دوران جمعرات کو اور پھر اس سالانہ اجتماع کے آخری روز جمعہ بیس جنوری کو بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرے گا۔

اس آرکسٹرا کی باگ ڈور مشرقی افغان صوبے کنڑ کی نگین خپلواک کے ہاتھوں میں ہے، جو اپنے وطن کی پہلی خاتون میوزک کنڈکٹر ہیں اور جو داووس سے وطن واپسی کی پرواز میں اپنی بیس ویں سالگرہ منائیں گی۔

اس آرکسٹرا کی زیادہ تر فنکارائیں یتیم ہیں یا پھر انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ اپنے قریبی عزیزوں اور دیگر حلقوں کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود اپنے اس شوق کو آگے بڑھانے کے لیے پُر عزم ہیں۔

نگین خپلواک کو بھی دیگر افغان نوعمر لڑکے لڑکیوں کی طرح بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ تھا لیکن کم ہی لوگوں نے خاندان کے دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے موسیقی کے شوق کے لیے اتنی سخت جنگ لڑی ہو گی، جتنی کہ نگین خپلواک نے لڑی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں آلاتِ موسیقی بجانا سرے سے ہی منع تھا اور آج بھی وہاں کے بہت سے قدامت پسند مسلمان موسیقی کی بہت سی اَقسام اور صورتوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔

نگین نے موسیقی نے ابتدا میں چوری چھُپے موسیقی کے ابتدائی سبق لیے، بالآخر اُس نے اپنا یہ شوق اپنے والد پر ظاہر کر دیا۔ والد نے تو حوصلہ افزائی کی لیکن اُس کے باقی قدامت پسند پشتون خاندان کا ردعمل انتہائی حوصلہ شکن تھا:’’میرے والد سے قطعِ نظر خاندان کا ہر فرد میرے خلاف ہو گیا، وہ کہتے تھے کہ ایک پشتون لڑکی بھلا کیسے موسیقی بجا سکتی ہے اور وہ بھی ہمارے قبیلے میں، جہاں مردوں کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے؟‘‘

آج کل نگین خپلواک کابل کے ایک یتیم خانے میں مقیم ہے اور اس پینتیس رکنی آرکسٹرا کی قیادت کر رہی ہے، جسے 'زہرہ آرکسٹرا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ آرکسٹرا افغانستان نیشنل انسٹیٹیوٹ فار میوزک میں مغربی اور افغان ہر دو طرح کی موسیقی بجانے میں مہارت رکھتا ہے۔

نگین خپلواک کے مطابق ایک بار وہ اپنے گھر والوں سے ملنے گئی تو اُس کے بھائیوں اور چچاؤں نے اُسے دھمکی دی کہ اگر اُس نے ٹیلی وژن پر پروگرام پیش کیا تو وہ اُسے ماریں پیٹیں گے چنانچہ اگلے ہی روز وہ واپس کابل آ گئی:’’افغانستان سے باہر کی خواتین کے مقابلے میں ہمیں ایسا لگتا ہے، جیسے ہم کسی پنجرے میں ہوں۔‘‘

افغان ماہرِ موسیقی احمد ناصر سرمست طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد 2010ء میں نیشنل انسٹیٹیوٹ فار میوزک کے قیام میں مدد دینے کے لیے آسٹریلیا سے واپس افغانستان لوٹے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس آرکسٹرا کی تشکیل بجائے خود ایک بڑی کامیابی ہے:’’اس آرکسٹرا میں شامل لڑکیاں اور اُن کی نوجوان لیڈر بہت بہادر ہیں۔‘‘

اس آرکسٹرا میں شامل کچھ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ اُن کے رشتہ داروں کو اُن پر فخر ہے لیکن یہ کہ دیگر حلقوں کی طرف سے اُنہیں شک و شبے کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ آرکسٹرا میں ٹرمپٹ بجانے والی فنکارہ مینا نے، جس کی والدہ مشرقی افغان شہر جلال آباد میں ایک پولیس اہلکار ہے بتایا:’’میں جب اپنے آلاتِ موسیقی اٹھائے گزرتی ہوں تو لوگ پیچھے سے میرے بارے میں بہت باتیں کرتے ہیں۔‘‘

Afghanistan 18-jährige Negin Khapalwak (picture-alliance/dpa/M. Jawad)

مشرقی افغان صوبے کنڑ کی نگین خپلواک داووس سے وطن واپسی کی پرواز میں اپنی بیس ویں سالگرہ منائیں گی

افغانستان میں موسیقی کے شعبے سے وابستہ شہریوں کے لیے حالات کس قدر خطرناک ہیں، اس کا اندازہ 2014ء کے اُس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے، جب سرمست ایک خود کُش حملے میں بال بال بچا تھا۔ تب کابل میں فرانسیسیوں کے زیر انتظام چلنے والے ایک اسکول میں منعقدہ شو کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سرمست کہتے ہیں کہ اُن کے حوصلے پھر بھی پست نہیں ہوئے اور لڑکیوں کا آرکسٹرا انتہا پسندوں کی کارروائیوں کا موزوں جواب ہے۔ یہ انسٹیٹیوٹ نگین کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اُسے اپنی تعلیم مکمل کرنے میں بھی مدد دے رہا ہے۔

'زہرہ آرکسٹرا‘ کی میوزک کنڈکٹر نگین خپلواک کا کہنا ہے:’’میں بھی اب پہلے والی نگین نہیں ہوں۔ اس آرکسٹرا کی قیادت کافی سخت ذمے داری ہے۔‘‘ نگین کہتی ہے کہ وہ اپنے شوق کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی چھوڑ سکتی ہے:’’میں شکست تسلیم نہیں کروں گی۔ میں موسیقی کے ساتھ اپنا رشتہ اُستوار رکھوں گی۔ میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتی لیکن جب لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو! یہ ہے نگین خپلواک، تو مجھے بہت توانائی ملتی ہے۔‘‘