1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دانشمندی بزرگی سے ؟ لازمی نہیں !

اکثر مشکل حالات میں کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے نانی یا دادی سے کسی بزرگ انسان ہی سے مشورہ طلب کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ لیکن اب ہر کسی کو احیتاط کرنی چاہیے۔

default

کوئی بھی انسان عمر میں اضافے اور بزرگی کے ساتھ لازمی طور پر زیادہ دانشمند نہیں ہو جاتا

ایک نئی تحقیق کے مطابق ماہرین کو اب یہ شواہد ملے ہیں کہ کوئی بھی انسان عمر میں اضافے اور بزرگی کے ساتھ لازمی طور پر زیادہ دانشمند نہیں ہو جاتا۔

عام طور پر یہی کہا جاتا ہے اور لوگ اس پر یقین بھی کرتے ہیں کہ دانشمندی بزرگی کے ساتھ آتی ہے۔ لیکن محقیقن کا خیال ہے کہ لازمی نہیں کہ کوئی انسان اپنے بڑھاپے میں اس سے زیادہ عقلمند ہو جتنا کہ وہ اپنی جوانی میں تھا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت پر یہ بھی ضروری نہیں کہ بزرگ نسل کے افراد ہر حال میں نوجوان نسل کے مقابلے میں زیادہ عقلمندی سے فیصلے کر سکتے ہیں۔

Absolventen der Jacobs University Bremen (für Multiklick oder Meta-Banner Study in Germany)

عمر رسیدہ افراد کے رویے اور رد عمل نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ غیر منتقی ہوتے ہیں ۔

زندگی میں اکثر ایسے حالات دیکھنے میں آتے ہیں کہ عمر رسیدہ افراد کے رویے اور رد عمل نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ غیر منطقی ہوتے ہیں ۔ شمال جرمنی کے شہر بریمن کے ایک نجی تعلیمی ادارے Jacobs یونیورسٹی کی نفسیات کی پروفیسر اور معروف ماہر ارسلا شٹاؤڈنگر کہتی ہیں کہ بوڑھے لوگ معاملات کو اتنی اچھی طرح نہ تو سمجھ سکتے ہیں نہ ہی ان پر اپنا رد عمل اتنی اچھی طرح ظاہر کر سکتے ہیں جتنا کہ ان کے لئے جوانی میں ممکن ہوتا ہے۔

پروفیسر شٹاؤڈنگر کہتی ہیں کہ بزرگ شہری اکثر نئے تجربات کرنے کے معاملے میں ذہنی کھلے پن کا مظاہرہ نہیں کرتے اور عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ وہ نئے تجربات کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لینے لگتے ہیں۔ ان میں یہ امکان پایا جاتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر تنگ نظر بھی ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر شٹاؤڈنگر کے بقول یہ ویسے دو عوامل ہیں جو مشترکہ طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا حامل کوئی شخص عقلمند نہیں ہوتا ۔ بریمن کی اس خاتون پروفیسر کو عام لوگوں میں عقلمندی سےمتعلق تحقیقی امور کا وسیع تر تجربہ ہے وہ اس شعبے میں 1985ء سے کام کر رہی ہیں۔

وہ ماضی میں ڈریسڈن کی ٹکنیکل یونیورسٹی اور برلن میں ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے تعلیمی تحقیق کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ ان کا سب سے پسندیدہ سوال ایک یہ ہے کہ وہ کون سی ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں عقلمندی کا نام دیا جا سکتا ہے اور ان کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

اب شٹاؤڈنگر اور ان کے ساتھیوں نے ایک اب نیا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ساتھ انسانوں میں دانشمندی کی سطح کو پرکھا جا سکتا ہے۔

Technische Universität Dresden Flash-Galerie

ڈریسڈن کی ٹکنیکل یونیورسٹی

جب پروفیسر شٹاؤڈنگر اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تحقیق سے یہ پتہ بھی چلایا کہ عام انسانوں کو خود اپنے مسائل حل کرنا ہوتے ہیں تو لازمی نہیں کہ ان کا رویہ بہت پر اعتماد ہو۔

اس کا سبب یہ ہے کہ خود اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عام لوگوں میں اعتماد کی کمی دیکھنے میں آتی ہے اور زیادہ تر انسانوں میں جذباتی ہو جانے کا بھی رجحان دیکھنے میں آتا ہے لیکن دوسروں کے مسائل حل کرتے ہوئے انسان فطری طور پر کسی حد تک زیادہ دانشمندی سے مشورے دے سکتا ہے اور اس میں اعتماد کی کوئی کمی نظر نہیں آتی۔

تحقیق سے یہ پتہ بھی چلا ہے کہ بزرگ افراد میں خود پرتنقید کرنے کا رجحان بھی بظاہر کم ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس نوجوان لوگ اپنی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے ان چیزوں کے بارے میں بھی ہر طرح کے سوالات پوچھنے لگتے ہیں جن کا ان کو تجربہ ہوا ہوتا ہے۔

پروفیسر ارسلا شٹاؤڈنگر اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ بزرگی میں زیادہ تجربات کا فائدہ خاص طور پر سماجی تنازعات کے حل کی کوشش میں ہوتا ہے لیکن اب عام لوگوں کو تسلیم کرنا ہو گا کہ چاہے کوئی اس پر یقین کرے بھی، لیکن دانشمندی لازمی طور پر بزرگی سے نہیں آتی۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : سائرہ حسن شیخ

DW.COM