1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے ہاتھ وہ اسلحہ لگا، جو عراق کو دیا گیا تھا، ایمنسٹی

کئی برسوں سے عراقی فوج کے لیے غیر ضروری اسلحے کی ترسیل جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی آتشی قوت کی اساس بنی ہے۔ یہ اہم بات بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک نئی رپورٹ میں واضح کی ہے۔

default

ہر جہادی خودکار ہتھیاروں کی گولیوں کی نمائش میں مصروف ہے

انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی آرگنائریشن ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ عراق کو فراہم کیے جانے والے اسلحے پر سخت کنٹرول کرے کیونکہ اِسی نگرانی کے عمل سے دہشت گرد گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی لائی جا سکے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ریسرچر پیٹرک وِلکن نے ایمنسٹی کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ذخیرے میں مختلف اقسام کے غیر ملکی ہتھیاروں کی موجودگی عراق کو اسلحے کی غیر ذمہ دارانہ ترسیل کا نتیجہ ہے۔

پیٹرک ولکن کے مطابق یہ اسلحہ کمزور قوانین اور بغیر کنٹرول کے اسلحے کی مسلسل سپلائی کو مختلف شہروں تک پہنچانے کے عمل کے دوران جہادیوں کے قبضے میں آیا اور اُنہوں نے اپنے گودام غیر ملکی اسلحے سے بھر لیے ہیں۔ اب وہ اِن ہتھیاروں کو آسانی سے عراقی فوج اور مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ اِس بےپناہ اسلحے پر دسترس حاصل کرنے کے بعد ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں نے مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور فائرنگ کے تبادلے میں وہ قبضہ شدہ اسلحے کا بے تحاشا اور غیر معمولی استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ صرف ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی تحویل میں نہیں ہے بلکہ تمام متحرک جہادی گروپ مہلک ہتھیاروں کی اِس ’نعمت‘ پر قبضے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Irak Tikrit Offensive gegen IS

گزشتہ برس عراق کے بڑے شہر موصل پر قبضے کے بعد ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی اسلحے کے انتہائی بڑے ذخیروں تک رسائی انتہائی آسانی سے ہو گئی تھی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس عراق کے بڑے شہر موصل پر قبضے کے بعد ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی اسلحے کے انتہائی بڑے ذخیروں تک رسائی انتہائی آسانی سے ہو گئی تھی کیونکہ ہزاروں عراقی فوجی بغیر کسی جنگ کے چھاؤنیوں سے فرار ہو گئے تھے۔ اسی طرح داعش کے نام نہاد ’جہادی‘ جیسے جیسے پیش قدمی کرتے گئے، ان کے قبضے میں اسلحے کے گودام آتے چلے گئے۔

اسلحے کے یہ گودام عراقی فوج کی چھاؤنیوں اور پولیس چوکیوں کے اندر قائم تھے۔ موصل کے بعد فلوجہ، تکریت، سقلاویہ اور رمادی شہروں پر قبضے کے دوران عراقی فوج کے اسلحے کے انتہائی بڑے ڈپو بھی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ہاتھ لگے تھے۔ اِن گوداموں میں موجود اسلحہ غیر ممالک کا تیار شدہ تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں برس مئی میں جب ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے الانبار صوبے کے صدر مقام رمادی پر قبضہ کیا تھا تو اُس نے ایک سو سے زائد بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔ عراقی فوج رمادی پر دوبارہ قبضے کی کوشش میں اِن بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کو پھر سے واپس چھیننے کی کوشش میں بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس فوجی ساز و سامان پر دوبارہ قبضے کی کوشش بے سود ہے کیونکہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اِن کو مختلف محاذوں پر تقسیم کر دیا ہے۔ اِس رپورٹ میں اس بین الاقوامی تنظیم نے انتہائی بڑی مقدار میں اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں فراہم کیے گئے اُس اسلحے کی تفصیل بھی شامل کی ہے، جو اب داعش کے ان نام نہاد ’جہادیوں‘ کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔