1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے ہاتھوں قتل عام، چار سو افراد کی اجتماعی قبریں دریافت

شمالی عراق میں شدت پسند تنظیم داعش کے ایک سابقہ گڑھ سے حکام کو کم ازکم چار سو افراد کی اجتماعی قبریں ملی ہیں۔ یہ قبریں عراقی صوبے کرکوک میں حویجہ نامی شہر کے قریب ایک سابقہ فوجی اڈے کے علاقے میں دریافت کی گئیں۔

default

حویجہ کے قریب عراقی فوج نے ایسی ایک سے زائد اجتماعی قبریں دریافت کیں

حویجہ سے اتوار بارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں کرکوک کے گورنر راکن سعید کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان قبروں سے اب تک 400 انسانی لاشوں کی باقیات نکالی جا چکی ہیں اور یہ تمام افراد تقریباﹰ یقینی طور پر شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے جہادیوں کے ہاتھوں قتل عام کے دوران مارے گئے تھے۔

شامی جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، پوٹن اور ٹرمپ میں اتفاق رائے

شام نے ملک بھر میں داعش کے خلاف کامیابی کا اعلان کر دیا

داعش کے خلاف جنگ جاری رہے گی، فرانسیسی صدر

گورنر راکن سعید نے بتایا، ’’یہ قبریں حویجہ سے قریب تین کلومیٹر دور ایک سابقہ فوجی اڈے کی حدود میں دریافت ہوئی ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ داعش کے جنگجوؤں نے اس علاقے کو ایک وسیع تر قتل گاہ میں بدل کر رکھ دیا تھا۔‘‘

اے ایف پی نے عراقی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جن سینکڑوں ہلاک شدگان کی لاشیں ان اجتماعی قبروں سے ملی ہیں، ان میں سے بہت سے افراد قیدیوں کی یونیفارم پہنے ہوئے تھے جب کہ باقی اپنی موت کے وقت عام شہریوں کے لباس میں تھے۔

Flash-Galerie US-Abzug aus dem Irak

اب تک ان اجتماعی قبرو‌ں سے کم از کم بھی چار سو انسانی لاشوں کی باقیات نکالی جا چکی ہیں

عراق کے اس علاقے پر داعش کے جہادیوں نے 2014ء میں اس وقت قبضہ کر لیا تھا، جب تیز رفتاری سے پیش قدمی کرتے ہوئے یہ جنگجو شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض ہو گئے تھے۔

اس علاقے میں داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف عراقی دستوں نے اپنے بہت بڑے آپریشن کا آغاز اس سال موسم گرما میں کیا تھا، جس کی تکمیل پر اکتوبر میں ملکی دارالحکومت بغداد سے قریب 240 کلومیٹر شمال کی طرف واقع اس شہر سے ‘اسلامک اسٹیٹ‘ کے شدت پسندوں کو نکال کر بغداد حکومت کی فورسز نے حویجہ کو حتمی طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

پورا دیر الزور شامی حکومتی دستوں کے قبضے میں، داعش مزید پسپا

عراقی علاقوں کے لیے عالمی بینک کی 400 ملین کی اضافی امداد

مجموعی طور پر عراق کے بہت سے علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کی جانے والے عسکری کارروائیوں کے بعد ملکی دستے اب تک کئی شہروں یا ان کے مضافات میں سینکڑوں ہلاک شدگان کی بہت سی اجتماعی قبریں دریافت کر چکے ہیں۔

Irak Hawidscha Shiiten-Truppe PMF und Regierungstruppen

عراقی دستوں اور ان کے حامی ملیشیا گروپوں نے حویجہ کو اکتوبر میں داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا تھا

عراقی فوج کے ایک جنرل نے اے ایف پی کو بتایا کہ حویجہ کے نواح سے داعش کے ہاتھوں مارے جانے والے سینکڑوں افراد کی ان اجتماعی قبروں کی دریافت مقامی باشندوں کے بیانات کی روشنی میں ممکن ہو سکی۔

بکھرتی ’خلافت‘ کے صحراؤں کی خاک چھانتے جہادی

جنگ تباہی لائے گی، عراقی کردستان کی بغداد کو مکالمت کی پیشکش

ایک مقامی کسان سعد عباس نے بتایا کہ داعش کے جنگجو اس علاقے پر تین سال تک قابض رہے، جس دوران وہ اکثر اپنی گاڑیوں اور ٹرکوں میں اپنے زیر حراست بہت سے قیدیوں کو کھلی جگہوں پر لے جاتے دیکھے جاتے تھے۔

سعد عباس نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ان قیدیوں کو یہ جنگجو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیتے تھے اور پھر ان کی لاشیں یا تو زمین میں کھودے گئے بڑے بڑے گڑھوں میں پھینک دی جاتی تھیں یا پھر انہیں جلا دیا جاتا تھا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:52

موصل میں زندگی کی رونقیں لوٹ رہی ہیں

DW.COM

Audios and videos on the topic