1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے سپلائی روٹ کو روکنے کی پاکستانی فوج کی کوشش

پاکستانی فوج کے مطابق ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے سپلائی روٹ کو بند کرنے کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔ پاکستانی فوجی خیبر ایجنسی کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانے میں مصروف ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کے دوران کم از کم چالیس عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ باجوہ کے مطابق فوجی آپریشن کے دوران بلند پہاڑوں کے مختلف مقامات پر فوج اپنی پوزیشنوں کو مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق خیبر ایجنسی کی یہ گزرگاہ دشوار دروں اور پیچیدہ راستوں پر مشتمل ہے اور پہاڑیوں میں چھپا ہوا یہ راستہ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے لیے ایک بہترین سپلائی روپ خیال کیا جاتا رہا ہے۔ انتہا پسند تنظیم کے لیے اِس مددگار راستے کو پاکستانی فوج نے مختلف عسکری کارروائیوں کے بعد تقریباً بند کر دیا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اِس رکاوٹ سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو نئے جہادیوں کے علاوہ دوسری اشیائے ضرورت کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اِس فوجی آپریشن کا بنیادی مقصد اولین دن سے واضح تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آزادانہ گشت کرتے عسکریت پسندوں کو کنٹرول کیا جا سکے تا کہ اِس قبائلی علاقے میں امن و سلامتی کی صورت حال بہتر ہو سکے۔

Pakistan Waziristan Armee Infanterie ARCHIV

خیبر ایجنسی میں پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے مشکلات کھڑی کر جدی ہیں

خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کو پاکستانی فوجی کمانڈ کے افغانستان میں انٹرنیشنل فورسرز کے کمانڈروں کی میٹنگ کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اِس میٹنگ میں طے کیا گیا تھا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ پر عسکری دباؤ بڑھانے کے لیے اِس راستے کی ناکہ بندی اشد ضروری ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خیبر ایجنسی کا روٹ اگر پاکستانی فوج نے پوری طرح اپنے کنٹرول میں کر لیا تو پاکستانی سرحد کے پار افغان علاقے میں داعش کے لیے خاصی مشکلات پیدا ہو سکیں گی۔

جرمن نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی اس سکیورٹی اہلکار نے مزید واضح کیا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے شدت پسند یقینی طور پر پاکستان اور افغانستان کے لیے خطرے کا باعث بن رہے ہیں اور اِن کی مسلح کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے اِس سپلائی روٹ کو کنٹرول کرنا وقت کی ضرورت بن کر رہ گیا تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنیشنل فورسز کی مسلح زمینی اور فضائی کارروائیوں میں افغان صوبے ننگر ہار میں متحرک ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے کئی سرکردہ لیڈروں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ ان ہلاک شدگان میں پاکستان اور افغانستان کے لیے اِس عسکری تنظیم کے سربراہ حافظ سعید خان بھی شامل ہے۔

سکیورٹی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سپلائی روپ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پاکستانی فوج کو عسکریت پسندوں کے خفیہ حملوں کا سامنا یقینی ہے، اس لیے مزید عسکری اقدامات کی ضرورت ابھی باقی ہے۔ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر محمود شاہ کا بھی خیال ہے کہ بلند پہاڑی چوٹیوں پر فوج کی نفری مستقل بنیادوں پر متعین کر کے اِس سپلائی راستے کی مسلسل نگرانی سے اِس قبائلی پٹی کے لوگوں کو مزید آسانیاں حاصل ہو سکیں گی۔

DW.COM