1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے سربراہ نے امریکی یرغمالی خاتون کو ’بار بار ریپ‘ کیا

امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق شام اور عراق کے وسیع حصوں پر قابض دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے سربراہ اور خود ساختہ ’خلیفہ‘ ابوبکر البغدادی نے ایک یرغمالی امریکی خاتون کو اس کی موت سے قبل ’بار بار ریپ‘ کیا تھا۔

default

اسلامک اسٹیٹ کا سربراہ ابوبکر البغدادی

نیو یارک سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق امریکی ٹیلی وژن اے بی سی نیوز نے کل جمعے کی رات اپنی نشریات میں کہا کہ کائیلا میولر نامی جس 26 سالہ امریکی امدادی کارکن کو شام میں اغوا کر کے یرغمال بنا لیا گیا تھا، اسے اس کی موت سے قبل اسلامک اسٹیٹ یا آئی ایس کے سربراہ البغدادی نے مبینہ طور پر بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق اگر یہ امریکی امدادی کارکن زندہ ہوتی، تو کل جمعہ چودہ اگست کے روز وہ ٹھیک 27 برس کی ہو جاتی۔

کائیلا میولر کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ABC News نے دعویٰ کیا ہے کہ جب اس امریکی خاتون کو اغوا کیا گیا تو دولت اسلامیہ کا سربراہ البغدادی اسے مبینہ لیکن ذاتی طور پر اس تنظیم کے اعلٰی ترین مالیاتی عہدیدار ابوسیاف کے گھر لایا، جہاں کائیلا کو قید کر دیا گیا تھا۔

اس امریکی نشریاتی ادارے نے کائیلا میولر کے ساتھ بار بار کی جانے والی جنسی زیادتیوں اور جسمانی تشدد سے متعلق اپنے دعووں کے حق میں انسداد دہشت گردی کے امریکی ماہرین کے حوالے بھی دیے۔ اس کے علاوہ اس ٹیلی وژن نے کائیلا کے والدین سے بھی بات کی، جنہوں نے تصدیق کی کہ امریکی حکومتی اہلکاروں نے انہیں بتایا تھا کہ ان کی بیٹی کی موت سے قبل البغدادی نے اس پر کئی بار جنسی حملے کیے تھے۔

اے بی سی نیوز کے مطابق کائیلا کے والدین، کارل اور مارشا میولر نے بتایا، ’’ہمیں بتایا گیا کہ کائیلا پر تشدد کیا گیا تھا۔ وہ البغدادی کی ملکیت تھی۔ یہ بات ہمیں جون کے مہینے میں (امریکی) حکومت نے بتائی۔‘‘ اس کے علاوہ اے بی سی نیوز نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایس کا سربراہ عراقی شدت پسند البغدادی اس گروپ کے مالیاتی امور کے نگران ابو سیاف کے کمپاؤنڈ کے باقاعدگی سے دورے کرتا تھا، جہاں وہ ابو سیاف سے ملنے کے علاوہ وہاں قید میں رکھی گئی کائیلا میولر کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کرتا تھا۔

اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے دعووں کے مطابق کائیلا میولر کو اگست 2013ء میں شامی شہر حلب سے اغوا کیا گیا تھا اور وہ اس سال فروری کی چھ تاریخ کو داعش کے خلاف امریکی اتحادیوں کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی۔ اردن کے ایک جنگی طیارے کے اس حملے میں آئی ایس کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا اور کائیلا میولر اسی عمارت کے ملبے کے نیچے دفن ہو گئی تھی۔

Kayla Jean Mueller

کائیلا میولر ’سپورٹ ٹو لائف‘ نامی امدادی تنظیم کے لیے کام کرتی تھی

امریکی حکام کے مطابق یہ بات ابھی تک غیر واضح ہے کہ کائیلا میولر کی دولت اسلامیہ کی حراست کے دوران موت حقیقتاﹰ کن حالات میں ہوئی۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے مالیاتی امور کے نگران ابو سیاف کو اسی سال پندرہ مئی کے روز امریکی فوجی کمانڈوز نے جنگ زدہ شام کے ایک شہر العمر میں کی جانے والی ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق کائیلا میولر کے ساتھ دوران قید روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق ان نئے انکشافات نے ان افواہوں کی تردید کر دی ہے کہ مثال کے طور پر اس امریکی خاتون نے اپنے اغوا کاروں سے بخوشی تعاون کیا تھا یا وہ ممکنہ طور پر ذاتی رضامندی سے البغدادی کی بیوی بن گئی تھی۔

اے بی سی نیوز کے مطابق کائیلا میولر کی رہائش گاہ اور وہاں ابوبکر البغدادی کے کردار کے بارے میں اس ادارے نے اپنی معلومات کی بنیاد امریکی حکام کو دو ایسی نوجوان ایزدی لڑکیوں کی طرف سے مہیا کی جانے والی تفصیلات کو بھی بنایا، جنہیں ابو سیاف کے گھر میں ’جنسی غلاموں‘ کے طور پر رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بہت سی معلومات امریکی حکام کی طرف سے ابو سیاف کی بیوہ سے کی جانے والی تفتیش کے دوران بھی حاصل ہوئیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ابو سیاف کی بیوی کائیلا کو اپنے گھر میں قید رکھنے کی ’شریک مجرم‘ تھی اور ایک امریکی کمانڈو آپریشن میں ابو سیاف کی ہلاکت کے بعد اسے گرفتار کر کے امریکا لانے کی بجائے نیم خود مختار عراقی کردستان میں حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

DW.COM