داعش کے ساتھ بات چیت کی جائے، دلائی لامہ کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 13.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے ساتھ بات چیت کی جائے، دلائی لامہ کا مطالبہ

تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شام اور عراق میں خونریزی کے خاتمے کے لیے داعش کے ساتھ مکالمت کی جانا چاہیے۔ دلائی لامہ کے بقول کوئی بھی مذہب کسی خونریزی کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو سکتا۔

Dalai Lama Universität Utah

دلائی لامہ کے مطابق شام اور عراق میں خونریزی کے خاتمے کے لیے داعش کے ساتھ بات چیت کی جانا چاہیے

فرانسیسی دارالحکومت سے منگل تیرہ ستمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق دلائی لامہ نے آج پیرس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دراصل ’مکالمت ہی واحد راستہ ہے۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ تبتی بودھ باشندوں کے روحانی قائد دلائی لامہ نے اپنے بیان میں یہ تو واضح نہیں کیا کہ شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے ساتھ دلائی لامہ کے مطالبہ کردہ مذاکرات کہاں اور کس کے ساتھ کیے جانا چاہییں، تاہم انہوں نے یہ بات بہت ضرور دے کر کہی، ’’اسلام اور دہشت گردی کو ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی صورت گڈ مڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

دلائی لامہ نے کہا کہ داعش کے ساتھ بات چیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح شام اور عراق سے مہاجرت پر مجبور ہو جانے والے لاکھوں انسانوں کی بھی مدد کی جا سکے گی۔

اسی تناظر میں دلائی لامہ نے یورپی ملکوں سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ شام کی خانہ جنگی سے فرار حاصل کرنے والے مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ تو دیں لیکن ساتھ ہی یورپی ملکوں کی حکومتوں کو اس مقصد کے تحت اور زیادہ کوششیں بھی کرنا چاہییں کہ شام میں خانہ جنگی ختم ہونی چاہیے تاکہ مہاجرین جلد از جلد واپس اپنے وطن روانہ ہو سکیں۔

Symbolbild - Flagge ISIS

انتہا پسند تنظیم داعش عراق اور شام میں فعال ہے

دلائی لامہ کے بارے میں، جو تبتی بودھ باشندوں کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما ہیں، یہ بات بھی اہم ہے کہ انہیں عشروں پہلے خود بھی تبت سے ترک وطن کر کے فرار ہونا پڑا تھا اور وہ قریب نصف صدی سے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

دلائی لامہ اس وقت فرانس کے ایک ہفتے کے دورے پر ہیں، جہاں وہ تحفظ ماحول اور روحانیت جیسے موضوعات پر کئی مختلف کانفرنسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

DW.COM