1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے ’دارالخلافہ‘ الرقہ میں جہادیوں پر شدید حملے

امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے شام میں داعش کے خود ساختہ ’دارالخلافہ‘ الرقہ کے مرکز میں حملے کیے ہیں۔ لڑائی کے باعث عام شہریوں نے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے وہاں سے بڑی تعداد میں نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز  نے چھ  جون کو داعش کے زیر قبضہ اس اہم علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جنگی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس طرح اب تک امریکی حمایت یافتہ جنگجو متعدد علاقوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ امریکا اور اس کی اتحادی فورسز کے مطابق کرد باغیوں اور سنی قبائل پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا گروپ شام میں داعش کے خلاف سب سے مؤثر گروپ ثابت ہو رہا ہے۔

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیر کے روز داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے مابین الرقہ کے مرکز اور جنوب مغربی علاقے یرموک میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق الرقہ کے قدیم مرکزی حصے میں شدید لڑائی جاری ہے اور جنگجوؤں نے الرقہ کی صدیوں پرانی مسجد کے ارد گرد پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔

امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے مطابق اتوار کے روز سے اب تک داعش کے گیارہ جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب داعش سے منسلک نیوز ایجنسی عماق کے مطابق امریکی حمایت یافتہ 14 فائٹرز کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ تاہم فریقین کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

الرقہ میں لڑائی کا سلسلہ ایک ایسے وقت شروع ہوا ہے، جب ایک ہفتے پہلے ہی عراق میں داعش کے زیر قبضہ سب سے بڑے شہر موصل پر ملکی فوج نے دوبارہ قبضہ حاصل کیا ہے۔

الرقہ میں داعش کی ناکامی اس تنظیم کے لیے پورے علاقے میں بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ دوسری جانب عراقی سرحد سے منسلک شام کا دیر الزور نامی علاقہ ابھی تک داعش کے قبضے میں ہی ہے۔ داعش کے خلاف لڑنے والے کرد فائٹرز کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے فضائی حملوں کی مدد بھی حاصل ہے جبکہ ان کرد باغیوں کو اسلحہ بھی مغربی حکومتیں فراہم کر رہی ہیں۔

شام میں اسد مخالف احتجاجی مظاہروں کا آغاز مارچ سن 2011 میں ہوا تھا۔ یہی احتجاجی مظاہرے بعد ازاں خانہ جنگی میں بدل گئے اور اب تک وہاں ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شام میں بے گھر اور وہاں سے نقل مکانی کر جانے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں بنتی ہے۔

DW.COM