1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے خلاف نیا چار ملکی اتحاد، ایران بھی شامل

شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف چار ملکوں نے مل کر خفیہ معلومات کے تبادلے کا ایسا مرکز قائم کر دیا ہے، جو مستقبل میں داعش کے خلاف مربوط فوجی حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

روسی دارالحکومت ماسکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ بات آج ہفتہ چھبیس ستمبر کے دن روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس نے بتائی۔ اس ایجنسی کے مطابق روس، ایران، شام اور عراق نے مل کر عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے خلاف خفیہ معلومات کے تبادلے کا ایک ایسا مرکز قائم کر دیا ہے، جو عراقی دارالحکومت بغداد میں کام کرے گا۔ اس مرکز میں اس اتحاد میں شامل چاروں ملکوں کے اعلیٰ فوجی نمائندے بھی تعینات ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جوائنٹ انٹیلیجنس سینٹر مستقبل میں ممکنہ طور پر اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے خلاف مربوط ملٹری آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس اتحاد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں پہلے سے قائم بین الاقوامی اتحاد کے حوالے سے طاقت کے توازن کو ان ملکوں کے حق میں اب تک کے مقابلے میں کچھ بہتر بنانے کی کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کی طرف سے شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے تو کیے جاتے ہیں لیکن امریکی سربراہی میں فعال یہی اتحاد شامی تنازعے میں اسد حکومت کا مخالف بھی ہے۔

اس کے برعکس جس نئے اتحاد سے متعلق ماسکو سے موصولہ رپورٹوں میں ذکر کیا گیا ہے، وہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف تو ہے لیکن دمشق میں صدر بشار الاسد کی حکومت کا اتحادی بھی ہے۔ ان چار ملکوں میں سے ایک تو خود شام ہے، جہاں دمشق میں بشار الاسد ابھی تک اقتدار میں ہیں جبکہ باقی تین ریاستیں، روس، ایران اور عراق وہ ملک ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ شامی تنازعے کے کسی بھی سیاسی حل میں بشار الاسد کا کردار بھی لازمی ہو گا۔

اس تناظر میں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکا سمیت بہت سے مغربی ممالک اب تک یہ مطالبے کرتے ہیں کہ دمشق میں اسد حکومت کو اقتدار سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ یہ اتحادی ممالک مسلح شامی باغیوں اور اپوزیشن گروپوں کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری طرف نئے چار ملکی گروپ میں سے ایران اور روس وہ ملک ہیں جو نہ صرف اسد انتظامیہ کو شام کی جائز حکومت قرار دیتے ہیں بلکہ اس کی سیاسی کے ساتھ ساتھ عسکری تائید و حمایت بھی کر رہے ہیں۔

Russland Wladimir Putin in Moskau

روسی صدر پوٹن پیر اٹھائیس ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

جرمن نیوز ایجنسی دی پی اے نے انٹرفیکس کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن آئندہ پیر کے روز نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جو خطاب کرنے والے ہیں، اس میں وہ متوقع طور پر اس امر کی وکالت کریں گے کہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف اجتماعی اور نتیجہ خیز کوششیں کی جانا چاہییں۔

اسی تناظر میں یہ پہلو بھی کچھ کم اہم نہیں ہے کہ 2011ء میں شامی تنازعے کے آغاز کے بعد سے روس اسد حکومت کو جو فوجی ساز و سامان فراہم کرتا آیا ہے، اور جس میں اس نے حال ہی میں اضافہ بھی کر دیا ہے، اسے وہ دہشت گردی کے خلاف دمشق حکومت کی مدد قرار دیتا ہے اور اس حمایت پر مغربی دنیا میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

DW.COM