1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے خلاف مصر اور امریکا مل کر لڑیں گے، ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مصری ہم منصب السیسی سے کہا ہے کہ واشنگٹن مصر کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی خاطر مشترکہ کوششیں کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے وائٹ ہاؤس کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات میں کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں علاقائی مسائل کے علاوہ عالمی امور بھی شامل تھے۔

پیر تین اپریل کی شام وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ٹرمپ نے السیسی کو یقین دہانی کرائی کہ واشنگٹن حکومت مصر کے ساتھ پائیدار اور زیادہ مستحکم تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔

’شاندار انسان‘ السیسی آج وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے مہمان

السیسی مغربی حمایت کے لیے سرگرم

بحرانی صورتحال ، مصر کو امریکی ایف سولہ طیاروں کی ڈیلیوری ملتوی

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق  ٹرمپ اور السیسی نے مصر کی خستہ حال معیشت پر بھی بات چیت کی اور اس میں بہتری پیدا کرنے کے حوالے سے کئی منصوبہ جات کو موضوع بنایا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے شام اور عراق میں فعال انتہا پسند گروہ داعش کے خلاف عالمی کارروائی پر بھی گفتگو کی۔

ٹرمپ اور السیسی کی ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ بیان کے مطابق شام، لیبیا، یمن اور دیگر ممالک میں امن کے قیام کے علاوہ اسرائیلی فلسطینی تنازعے کے خاتمے کی خاطر بھی کوششیں تیز کر دی جائیں گی۔

اس ملاقات کے بعد اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر کسی کو کوئی شک ہے تو میں تمام لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم مصری صدر السیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے ایک مشکل صورتحال میں بہت اچھے طریقے سے ردعمل ظاہر کیا۔ ہم مصر اور مصری عوام کے ساتھ ہیں۔‘‘ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں السیسی نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ حکومت امریکا کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھی گی۔

USA Abdel Fattah al-Sisi und Donald Trump in Washington (Reuters/K. Lamarque)

سن دو ہزار چودہ میں اقتدار میں آنے والے مصری صدر السیسی کا یہ پہلا دورہ امریکا تھا

سن دو ہزار چودہ میں اقتدار میں آنے والے مصری صدر السیسی کا یہ پہلا دورہ امریکا ہے۔ سابق امریکی صدر اوباما نے السیسی حکومت کے انسانی حقوق کے خراب ریکارڈ کے باعث انہیں امریکا آنے کی دعوت نہیں دی تھی۔

اوباما کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں قاہرہ اور واشنگٹن کے مابین تعلقات بھی تناؤ کا شکار تھے۔ تاہم اب ٹرمپ کی کوشش ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ واشنگٹن کے اس روایتی حلیف ملک کے ساتھ ایک مرتبہ پھر تعلقات کو مستحکم بنائے۔

DW.COM