1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے ‌‌خلاف جنگ، اقوام متحدہ میں متفقہ قرارداد منظور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابض اور مختلف ملکوں میں دہشت گردی کرنے والے گروہ اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے خلاف جنگ میں تمام ضروری اقدامات سے متعلق ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

امریکا میں نیو یارک سے ہفتہ اکیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس قرارداد میں عالمی ادارے کی سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے رکن تمام ملکوں کو یہ ’اختیار‘ دے دیا ہےکہ وہ عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش کے خلاف جنگ میں ’تمام ضروری اقدامات‘ کریں۔

اس قرارداد کا مسودہ فرانس نے پیش کیا تھا اور سلامتی کونسل میں یہ مسودہ پیرس میں ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں کے محض ایک ہفتے بعد پیش کیا گیا تھا، جن میں بیک وقت کیے گئے کئی حملوں میں تیرہ نومبر کے روز کم از کم 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس قرارداد کی منظوری کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے سکیورٹی کونسل کی طرف سے پیرس کی اس تجویز کی متفقہ حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ اسلامک اسٹیٹ کے خاتمے کے لیے خود کو مکمل اور مؤثر طور پر حرکت میں لائے۔

قرارداد کی منظوری کے بعد فرانسسی وزیر خارجہ لاراں فابیوس نے کہا کہ اب یہ اقوام متحدہ کی تمام رکن ریاستوں کی ذمے داری ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں کامیاب نتائج کے لیے راستے تلاش کریں، چاہے وہ عسکری ذرائع سے حاصل کیے جائیں یا سیاسی کوششوں کے ذریعے، لیکن جن کی مدد سے داعش کی خونریزی اور دہشت گردی کو روکا جا سکے اور اسے مالی وسائل کی ترسیل منقطع کی جا سکے۔

اے ایف پی کے مطابق سلامتی کونسل نے یہ قرارداد منظور تو کر لی ہے، تاہم اس کو عالمی ادارے کی سطح پر داعش کے خلاف کسی فوجی مہم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لیے کہ اس قرارداد میں عالمی ادارے کے منشور کے اس ساتویں باب کی کسی شق کو استعمال میں لانے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس کے تحت اقوام متحدہ کی طرف سے باقاعدہ فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

Präsident Hollande spricht vor französischen Bürgermeistern

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے کہا کہ عالمی برادری کو داعش کے خلاف متحد ہونا چاہیے

سلامتی کونسل میں رائے شماری کے بعد برطانیہ نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری اقوام متحدہ کی رکن تمام ریاستوں کو یہ دعوت دیتی ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں میں شامل ہو جائیں۔