1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے جنگجو کیمیکل ہتھیار بنا سکتے ہیں، برینن

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ انتہا پسند گروہ داعش کے جنگجوؤں نے کیمیکل ہتھیار استعمال کیے ہیں جبکہ یہ جہادی چھوٹے پیمانے پر کلورین اور مسٹرڈ گیسیں بنانے کے اہلیت بھی رکھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراق و شام میں سرگرم انتہا پسند گروہ داعش کے جنگجو زہریلے اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جان برینن نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہادی اپنی عسکری مہموں کے دوران کیمیل ہتھیار استعمال کر چکے ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کہا، ’’ہمارے پاس ایسی متعدد مثالیں ہیں کہ آئی ایس آئی ایل (داعش) کے جہادیوں نے جنگوں کے میدانوں میں کیمیل ہتھیار استعمال کیے ہیں۔‘‘

سی بی ایس نیوز چینل جان برینن کے ساتھ کی جانے والی یہ تفصیلی گفتگو اتوار کے دن نشر کرے گا۔ اس امریکی نشریاتی ادارے کے پروگرام ’60 منٹس‘ سے گفتگو میں برینن نے مزید کہا کہ یہ جہادی ہتھیارسازی کے لیے چھوٹے پیمانے پر کلورین اور مسٹرڈ گیسیں بنانے کی قابلیت بھی رکھتے ہیں۔

برینن کا یہ بھی کہنا ہے کہ داعش کے جہادی ممکنہ طور پر مالی فوائد کی خاطر یہ ہتھیار مغربی ممالک میں برآمد کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں خبردار کرتے ہوئے مزید کہا، ’’میرے خیال میں اس بات کا خطرہ ہے۔ اس لیے جہادیوں کے ایسے ذرائع کو مفلوج کرنے کی ضرورت ہے، جہاں سے وہ یہ (ہتھیار) اسمگل یا ٹرانسپورٹ کر سکتے ہیں۔‘‘

سی آئی اے کے سربراہ نے کہا کہ شام اور عراق میں داعش کے جنگجوؤں کو شکست دینے کی خاطر تمام تر ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ جان برینن کے اس انٹرویو کے کچھ اقتباسات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں، جب نیشنل انٹیلی جنس کے چیف جیمز کلیپر نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے جہادیوں کی طرف سے کیمیکل ہتھیاروں کے اسعتمال کی طرف اشارہ کیا تھا۔

جان کلیپر کے بقول 1995ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی انتہا پسند گروہ نے ایسے خطرناک ہتھیار بنائے اور انہیں استعمال کیا ہے۔ کلیپر نے بھی اس پیشرفت کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کی طرف سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف شامی صدر بشار الاسد اور باغی طاقتیں بھی ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہیں کہ وہ کیمیکل ہتھیار استعمال کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ شام میں تقریبا پانچ برسوں سے جاری بحران کی وجہ سے اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ڈھائی لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ شامی باشندوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے گھر بھی ہو چکی ہیں، جن میں سے لاکھوں افراد پرسکون زندگی کی خاطر یورپ کا رخ بھی کر رہے ہیں۔