1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کی وسطی ایشیا میں مداخلت ممکن، روس کا انتباہ

روس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں اور مشرق وسطیٰ کے شام اور عراق جیسے ملکوں میں قدم جمانے والی جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے وسطی ایشیا کی طرف یلغار اور مداخلت کا خطرہ زیادہ ہو چکا ہے۔

ISIL Kämpfer

شام میں داعش کی طرف سے لڑنے والے جہادیوں میں سینکڑوں کی تعداد میں روسی اور وسطی ایشیائی عسکریت پسند بھی شامل ہیں

روسی دارالحکومت ماسکو سے بدھ اٹھائیس اکتوبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں روسی خبر رساں اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان اور اسلامک اسٹیٹ یا داعش کی طرف سے وسطی ایشیا میں مسلح مداخلت کا خطرہ کافی بڑھ چکا ہے۔

ان رپورٹوں میں روسی خفیہ ادارے FSB کے سربراہ الیگزانڈر بورٹنیکوف کے بیانات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کے شمالی سرحدی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باعث یہ ایک حقیقی خطرہ ہے کہ اسلام پسند جنگجو وہاں سے وسطی ایشیائی ریاستوں میں سرایت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

الیگزانڈر بورٹنیکوف کے بقول اس خطرے کو اس پیش رفت کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے کہ افغان طالبان کے کئی دھڑے اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے ساتھ اپنے تعلق اور وفاداری کے عہد کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ افغانستان کی سابق سوویت یونین کی جمہوریاؤں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ سرحدیں کئی مقامات پر ایسی ہیں کہ وہاں سے غیر قانونی آمد و رفت کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو کے لیے ایک عرصے سے یہ بات بھی باعث تشویش ہے کہ انہی غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے روس میں منشیات کا ایک بڑا حصہ اسمگل کیا جاتا ہے۔

روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے سربراہ کی آج کی تنبیہ سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی گزشتہ ماہ کے آخر میں کہا تھا کہ افغانستان کی صورت حال ’نازک کے بہت قریب‘ پہنچ چکی ہے اور روس کے علاوہ سابق سوویت یونین کی دیگر جمہوریاؤں کو بھی افغانستان سے کیے جانے والے کسی بھی ممکنہ حملے کو مل کر ناکام بنانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

DW.COM