’داعش‘ کی فضائی نگرانی کے لیے جرمن طیارے اب اردن میں | حالات حاضرہ | DW | 05.10.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’داعش‘ کی فضائی نگرانی کے لیے جرمن طیارے اب اردن میں

ترکی کی انجرليک بيس کے حوالے سے جاری تنازعے کے تناظر ميں جرمنی نے اپنے چار ٹورناڈو جنگی طيارے اب اردن ميں تعينات کر ديے ہيں۔ اس مشن کا مقصد پڑوسی ممالک ميں سرگرم اسلامک اسٹيٹ کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنا ہے۔

جرمنی نے شدت پسند تنظیم داعش کی فضائی نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے اپنے چار ٹورناڈو طیارے اب اردن منتقل کر دیے ہیں۔ جرمن وزارت دفاع نے اس پيش رفت کی تصديق بدھ چار اکتوبر کو کی تھی۔ برلن سے وزارت دفاع کے ايک اہلکار نے بتايا ہے کہ یہ طیارے مشرق وسطی ميں سرگرم جہادی تنظيم داعش کے خلاف چند ہی روز میں اپنا نگران مشن دوبارہ شروع کر دیں گے۔ يہ ٹورناڈو طيارے دشمن کے ممکنہ اہداف کی ايسی تصاوير بناتے ہيں، جو ميدان جنگ ميں اتحادیوں کے ليے اہم ثابت ہو سکتی ہيں۔

پہلے یہ طیارے شامی سرحد کے قریب ترکی میں نیٹو کے ایک فضائی اڈے پر تعینات تھے۔ تاہم انقرہ حکومت نے کئی مرتبہ کی درخواستوں کے باوجود جرمن قانون سازوں کو اس اڈے پر جانے کی اجازت نہيں دی تھی، جس سبب دونوں ملکوں کے تعلقات کشيدہ ہوتے گئے۔ ان طیاروں اور ان کے عملے کو ترکی اور جرمنی کے مابین انہی اختلافات کے بعد واپس بلا لیا گیا تھا۔ انجرليک بيس پر موجود فليٹ ميں چھ طيارے شامل تھے تاہم اردن ميں چار ايسے طيارے تعينات کيے گئے ہيں، جس سے داعش کی گھٹتی ہوئی قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔