1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’داعش کی حامی پاکستانی خوش حال خواتین‘

کراچی پولیس نے کہا ہے کہ وہ خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کے ایک نیٹ ورک کو جلد ہی بے نقاب کر دے گی، جو انتہا پسند گروپ داعش کے لیے فنڈ ریزنگ کا کام کر رہا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے سندھ میں انسداد دہشت گردی ادارے کے سربراہ راجہ عمر خطاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد یہ سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں شعیہ اسماعلیوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے یہ گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

DW.COM

یاد رہے کہ مئی میں سانحہ صفورا یعنی شیعہ اسماعلیوں پر کیے گئے حملے میں چوالیس افراد مارے گئے تھے۔ پاکستان میں یہ ایسا پہلا حملہ تھا، جس کے لیے ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ راجہ عمر خطاب کے مطابق گزشتہ ہفتے گرفتار کیے گئے اس مشتبہ شخص نے بتایا ہے کہ ان کی اہلیہ نے ’الذکر اکیڈمی‘ نامی ایک مذہبی ادارہ قائم کیا تھا ۔ انہوں نے کہا، ’’اس ادارے کا نہ تو کوئی دفتر تھا اور نہ ہی کوئی باقاعدہ نظام۔‘‘

راجہ عمر خطاب نے مزید کہا کہ اس گروہ میں بیس خواتین شامل ہیں، جو تمام خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں، ’’یہ خواتین بطور ایک نیٹ ورک ، ’یو ایس بی‘ کے ذریعے داعش کی ویڈیوز، جہادی لٹریچر اور دیگر مواد کی تشہیر کرتی رہی ہیں۔ یہ خواتین اس گروہ کے اندر شادیوں کا کام بھی سرانجام دیتی رہی ہیں۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ خواتین انتہائی منظم انداز میں درس و تدریس کی آڑ میں خواتین کی ذہن سازی کرتی رہی ہیں۔

صوبہ سندھ میں انسداد دہشت گردی ادارے کے سربراہ کے مطابق یہ خواتین انتہا پسندوں کے لیے اسلام کے نام پر چندہ اکٹھا کرتیں اور بعد ازاں ان رقوم کو ملزم (گرفتار شدہ مشتبہ شخص) کو پہنچا دیتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعد عزیز کی اہلیہ اور ساس بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ سعد عزیز پر سانحہ صفورا اور امن کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد ہیں۔

Pakistan Karachi Anschlag auf Frauenrechtsaktivistin Sabeen Mehmud

سعد عزیز پر سانحہ صفورا اور امن کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد ہیں

راجہ عمر خطاب کے مطابق جلد ہی خواتین کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا جائے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ حکومت پاکستان ایسی خبروں کو مسترد کرتی ہے کہ پاکستان کو انتہا پسند گروہ داعش سے کوئی خطرہ لاحق ہے۔