1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کی ’تباہی‘ کے لیے نیا منصوبہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے

امریکی محکمہء دفاع نے داعش کو شکست دینے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی بھیجنے اور دیگر اہم علاقوں میں جارحانہ پالیسی اپنانے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کا ایک بنیادی نعرہ یہ تھا کہ داعش کے خلاف تیز تر اور سخت اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں جنگجوؤں نے عراق اور شام کے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اوباما انتظامیہ ان کے خلاف کارروائیاں کرنے  میں سستی سے کام لے رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کے پاس داعش کے جنگجوؤں کو شکست دینے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ ہے تاہم انہوں نے اس منصوبے کی تفصیلات آج تک کسی کے سامنے نہیں رکھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے متعدد مرتبہ ’’نیست و نابود‘‘ کرنے جیسا فقرہ بول چکے ہیں اور مشتبہ داعش کے عسکریت پسندوں کےاہلخانہ کے اراکین کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

امریکی صدر کے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد انہوں نے محکمہ دفاع پینٹاگون کو کہا تھا کہ انہیں داعش کو ’مکمل طور پر مٹانے کے لیے‘ تیس دن کے اندر اندر ایک جامع منصوبہ فراہم کیا جائے۔

 امریکا کی قیادت میں کام کرنے والا ایک فوجی اتحاد 2014ء سے عراق اور شام میں جہادیوں کے خلاف فضائی بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اسی پروگرام کے تحت مغربی کمانڈوز مقامی فورسز کو عسکری تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق جائزہ لینے کے لیے ابتدائی مسودہ اب مکمل ہے اور اسے ٹرمپ انتظامیہ میں قومی سلامتی کے اعلیٰ مشیروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پینٹاگون کے ایک ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا تھا کہ ان خفیہ دستاویزات کو ابھی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ داعش کو تیزی سے شکست دینے کے بارے میں ہیں۔ اس منصوبے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے چین آف کمانڈ کے ساتھ مذاکرات شروع کریں گے۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں مزید امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں بھیجنے اور دیگر بنیادی علاقوں میں مزید جارحانہ موقف اپنانے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

 جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل جو ڈنفورڈ نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن  میں گفتگو کرتے ہوئے کہ تھا، ’’یہ شام اور عراق سے متعلق نہیں ہے، یہ ٹرانس ریجنل خطرے سے متعلق ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس خاص کیس میں ہم داعش کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن یہ القاعدہ اور اس طرح  کے ان گروپوں کے بارے میں بھی ہے، جو بین العلاقائی خطرہ ہیں۔‘‘ اس دوران ڈنفورڈ نے سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ نئی فوجی کارروائیوں کی اہمیت پر بھی زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم میں سے وہ تمام لوگ جو گزشتہ پندرہ برسوں سے ان تنازعات میں شامل رہ چکے ہیں، جانتے ہیں کہ آخر کار وہی چیز کامیاب ہوتی ہے، جسے سیاسی مقاصد کے تحت حمایت حاصل ہو۔‘‘

اس نئے منصوبے کا مزید جائزہ لینے کے لیے ملک کی تمام خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں سے بھی رائے طلب کی جائے گی۔