1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

داعش کی آن لائن جنگ اور امریکی فوج کے اناڑی ملازمین

امریکی فوج نے ایک خصوصی پروگرام شروع کر رکھا ہے، جس کا کام جہادیوں کے آن لائن پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس پروگرام کے ملازمین کا اسلام، عربی زبان اور قرآن کے بارے میں علم بہترین ہونا چاہیے لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کئی لاکھوں ڈالر اس لیے خرچ کر رہا ہے کہ داعش یا اس جیسی دوسری جہادی تنظمیوں کے پروپیگنڈے کا آن لان مقابلہ کیا جا سکے۔ اس حوالے سے امریکا نے ایک ’ویب اوپس‘ نامی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق یہ پروگرام ان کے ایک ’وسیع نفسیاتی آپریشن‘ کا حصہ ہے اور اس کے تحت دشمن کا آن لائن مقابلہ انتہائی موثر طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

ان حکومتی دعوؤں کے برعکس نیوز ایجنسی اے پی نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں واضح کیا کہ ’ویب اوپس‘ کی انتظامیہ اسے نااہلی سے چلا رہی ہے اور اس حوالے سے حکومت کو پیش کے جانے والے اعداد و شمار میں بھی رد و بدل کیا جاتا ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کی ایک انتہائی مفصل رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ یہ حکومتی پروگرام بایھ تک غیرموثر دکھائی دیتا ہے۔

’ویب اوپس‘ کے متعدد موجودہ اور سابق ملازمین نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس پروگرام میں شامل بہت سے سویلین ملازمین کے پاس عربی زبان کی مناسب مہارت ہی نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بہت سے ملازمین روانی سے عربی زبان ہی نہیں بول سکتے اور ان کے پاس اسلام کا علم بھی بہت ہی محدود ہے اور اس طرح وہ کیسے جہادی تنظیموں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اس کمپنی کے ایک سابق ملازم کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ آپ جب مختلف الفاظ کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہوں تو آپ کیونکر داعش کے ممکنہ رکن کا پتا لگا سکتے ہیں۔ مترجم بہت سے الفاظ کا سمجھنے میں ہی غلطیاں کرتے ہیں۔‘‘ اس ملازم کی طرف سے کئی ایسے اسکرین شاٹس فراہم کیے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ کا ترجمہ غلط کیا گیا ہے۔

اس کمپنی کے چار موجودہ ملازمین نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ حکومت کو فراہم کیے جانے والے ڈیٹا میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔ حکومت کی پیش کی جانے والی رپورٹ میں ایسی کامیابیاں بیان کی جاتی ہیں، جو اصل میں ہوتی ہی نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کئی ایسے ملازمین کی مثالیں بھی فراہم کی گئی ہیں، جو اردو، فارسی یا عربی کا فرق نہیں جانتے۔ بتایا گیا ہے کہ ’ویب اوپس‘ میں زیادہ تر ایسے مراکشی کام کر رہے ہیں ، جو مشرق وسطی کی تاریخ اور حالات سے بھی ناواقف ہیں۔ اس حوالے سے ان ملازمین کی مثال دی گئی ہے، جو حماس اور حزب اللہ کے مابین فرق کو نہیں جانتے۔  

ایسی رپورٹیں منظر عام پر آنے کے بعد امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ ایسی کنٹریکٹ والی کمپبنیوں کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ دفاع نے ایسی نئی کمپنیوں کی تلاش کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں، جو جہادی تنظیموں کے خلاف آن لائن جنگ میں حکومت کے لیے کام کر سکیں اور ایسے ماہرین فراہم کر سکیں، جو اسلام، عربی زبان اور قرآن کے ماہر ہوں۔ ایسے ماہرین کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاریخ کے حوالے سے بھی علم رکھتے ہوں۔