1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کو پروان چڑھانے کے ذمہ دار اسد ہیں، سعودی شاہ سلمان

سعودی بادشاہ سلمان نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی پالیسیوں کی وجہ سے انتہا پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں کو پنپنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے اپنے سالانہ خطاب میں کہا ہے کہ وہ شام میں قیام امن چاہتے ہیں۔

Saudi-Arabien König Salman

شاہ سلمان کے بقول اگر صدر اسد کی پالیسیاں مختلف ہوتیں تو شام میں دہشت گرد عناصر کبھی بھی طاقت جمع نہیں کر سکتے تھے

سعودی فرمانروا سلمان نے بدھ تئیس دسمبر کو اپنے سالانہ خطاب کے دوران شامی صدر بشار الاسد پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے شام میں جہادیوں کو پنپنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام میں اعتدال پسند سیاسی دھڑوں کے ساتھ مل کر وہاں ایک عبوری حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں۔

شاہ سلمان نے کہا کہ شامی بحران کے حل کے لیے وہاں اعتدال پسند اپوزیشن کی ایک عبوری حکومت بنانا ہو گی، وہاں ایک متحدہ حکومت کا قیام یقینی بنانا ہو گا اور اسی صورت میں وہاں دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

سعودی بادشاہ نے کہا کہ شام میں قیام امن کی خاطر ان بنیادی اقدامات کے نتیجے میں ہی وہاں سے غیر ملکی فورسز کا انخلاء ہو سکے گا۔

مشاورتی شوریٰ کونسل سے خطاب میں شاہ سلمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام میں اگر صدر اسد کی پالیسیاں مختلف ہوتیں تو وہاں دہشت گرد عناصر کبھی بھی طاقت جمع نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے اس بحران کے لیے صدر اسد کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ دمشق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی وہاں لاکھوں افراد مارے گئے جبکہ کئی ملین بے گھر ہوئے ہیں۔

شام میں مارچ سن دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والے بحران کے نتیجے میں اب تک اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق کم ازکم ڈھائی لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ ملک کی تقریباﹰ نصف آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ریاض حکومت شامی اپوزیشن کی حامی ہے اور وہ صدر اسد کو اقتدار سے الگ دیکھنا چاہتی ہے۔

نواسی سالہ شاہ سلمان نے اپنی تقریر کا کچھ حصہ ہی پڑھا جبکہ باقی حصہ سرکاری نیوز ایجنسی نے جاری کیا۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شام کا سیاسی حل چاہتی ہے۔

Spanien Assad TV Interview

شامی صدر بشار الاسد نے بھی اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات کا حصہ بننے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے

اگرچہ عالمی طاقتوں نے کہا ہے کہ شام میں قیام امن کی خاطر ترتیب دیے گئے روڈ میپ پرعملدرآمد کرتے ہوئے ابتدائی طور پر صدر اسد سے مذاکرات ممکن ہیں تاہم آخر کار اسد کو اقتدار سے الگ ہونا ہی پڑے گا۔

دوسری طرف شامی صدر کے حامی ممالک روس اور ایران کا کہنا ہے کہ شام میں قیام امن کا حتمی فیصلہ شامی عوام کو خود ہی کرنا چاہیے۔

ان دونوں ممالک کا یہ اصرار بھی ہے کہ بیرونی طاقتوں کو شامی عوام پر کوئی امن ڈیل مسلط نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں موقع فراہم کرنا چاہیے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ اسد کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔