داعش کا شکار بننے والی خواتین کے لیے خصوصی جرمن منصوبہ | معاشرہ | DW | 28.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

داعش کا شکار بننے والی خواتین کے لیے خصوصی جرمن منصوبہ

اسلامک اسٹیٹ خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کر کے جنسی غلام بناتی رہی ہے۔ آئی ایس نے خصوصی طور پر عراق کی یزیدی خواتین پر بہت ظلم ڈھائے ہیں۔ اب ایک خصوصی منصوبے کے تحت ان خواتین کو جرمنی لایا جا رہا ہے۔

جرمن ڈاکٹر جان الہان کیزلہان کے مطابق انہیں تقریباً چودہ سو یزیدی خواتین نے اپنی اپنی کہانیاں سنائی ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں، جو عراق میں اسلامک اسٹیٹ کی محکوم رہ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک آٹھ سالہ بچی نے بتایا کہ اسے دس ماہ کے دوران آٹھ مرتبہ فروخت کیا گیا اور بارہا جنسی ہوس کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس کے بقول اُس کی بہن نے اس اذیت سے بچنے کی خاطر تیل چھڑک کر خود کو جلا ڈالا تاکہ وہ پر کشش دکھائی نہ دے۔ ڈاکٹر کیزلہان کے مطابق، ’’ان لوگوں نے بہت اذیت جھیلی ہے، یہ دوزخ میں وقت بِتا کر آئے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر جان الہان کیزلہان ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت آئی ایس کی درندگی کا شکار بننے والی تقریباً گیارہ سو لڑکیوں اور خواتین کو نفسیاتی اور جسمانی علاج کے لیے جرمنی لایا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ جرمن صوبہ باڈن وورٹمبرگ کی جانب سے شروع کیا گیا ہے اور تقریباً گزشتہ دو برسوں سے جاری ہے۔

اس منصوبے کو شروع کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا گیا تھا، جب آئی ایس کے شدت پسند شمالی عراق میں پیش قدمی کرتے ہوئے یزیدی علاقوں کو روندتے ہوئے خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کر رہے تھے۔ اس دوران یزیدیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام بھی کیا گیا اور ہزاروں بے گھر کر دیے گئے۔

ڈاکٹر کیزلہان نے سوئس شہر جنیوا میں انٹرویو کے دوران مزید کہا کہ صورت حال انتہائی نازک ہے۔ ’’دیگر ممالک کو بھی اس صوبے کی طرح کے اقدامات کرنے چاہییں۔‘‘ ان کے بقول ان خواتین کو حقیقاً خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہے۔’’ اگر ہم ان کی مدد نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ اس پروگرام کے تحت جرمنی لائی جانے والی زیادہ تر لڑکیوں کی عمر سولہ سے بیس سال کے درمیان ہے جب کہ ایک خاتون چالیس کے پیٹے میں ہیں۔

آئی ایس کی جانب سے جنسی غلام بنائی جانے والی اکثر خواتین کو یزیدی قوم اپنی برادری کے لیے رسوائی کا سبب سمجھتی ہے۔ غلامی سے چھٹکارا پانے والی اکثر خواتین نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے مفلسی کے دام میں پھنس چکی ہیں۔ ڈاکٹر کیزلہان کے بقول اس صورتحال نے بہت سی خواتین کو جسم فروشی پر مجبور کر دیا جب کہ کئی ایک نے اپنی جان لے لی۔’’ گزشتہ ایک برس کے دوران خود کشی کے بیس سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ اصل تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے۔‘‘