1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی ’ہلاک ہو چکا‘، شامی گروپ

شام کے حالات پر نگاہ رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی ہلاک ہوچکا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس خبر کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

شام کے حالات پر نگاہ رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ  داعش کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے اپنی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ اس گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’دیر الزور صوبے میں موجود داعش کے اعلیٰ کمانڈروں نے آبزرویٹری کے سامنے اپنے امیر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔‘‘

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں اس بات کی اطلاع آج ملی ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ البغدادی کی ہلاکت کب ہوئی۔‘‘ دیر الزور شام کا مشرقی صوبہ ہے اور باقی علاقوں میں پے در پے ناکامیوں کے باوجود داعش کا اس صوبے پر کنڑول ابھی تک قائم ہیں۔ رامی عبدالرحمان کا مزید کہنا تھا، ’’البغدادی چند ماہ پہلے دیر الزور کے مشرقی حصے میں تھا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی ہلاکت اسی صوبے میں یا پھر کسی دوسری جگہ پر ہوئی۔‘‘

ابوبکر البغدادی شاید مارا گیا: جائزہ لے رہے ہیں، روسی حکومت

دوسری جانب اس خبر کی تصدیق یا تردید ابھی تک داعش کے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے نہیں کی گئی۔ عراق اور شام میں داعش کے خلاف کارروائیاں کرنے والی اتحادی فورسز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ابھی فوری طور پر اس خبر کی تصدیق نہیں کی جا سکتی لیکن اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

البغدادی کے سر کی قیمت پچیس ملین ڈالر

اتحادی فورسز کے ترجمان کرنل رین ڈیلون نے کہا، ’’ہم اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن امید ہے کہ یہ سچ ہو گی۔‘‘

دریں اثناء روسی فوج نے بتایا ہے کہ ان کے سخوئے جنگی جہازوں نے 28 مئی کو الرقہ کے قریب واقع اس ٹھکانے کو 10 منٹ تک نشانہ بنایا تھا، جہاں اس گروپ کے رہنما موجود تھے اور اس علاقے سے نکلنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ فی الحال اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’ہم اس کی چھان بین کریں گے، دستیاب انٹیلی جنس کے حوالے سے دیکھیں گے اور جب ہمارے پاس ضروری حقائق موجود ہوں گے، تو پھر کوئی بیان بھی جاری کیا جائے گا۔‘‘

DW.COM