1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کا ’جلاد‘ ترکی سے گرفتار کر لیا گیا

مشرقی ترکی میں پولیس کی طرف سے مارے گئے چھاپوں کے دوران جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے سات ایسے مشتبہ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں اس شدت پسند گروہ کا ایک سینیئر رہنما اور ایک ’جلاد‘ بھی شامل ہیں۔

Islamischer Staat Hinrichtung in Syrien

داعش کے جہادی شام میں اپنے زیر قبضہ بہت سے یرغمالیوں کو انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کر چکے ہیں۔ آئی ایس کی ایک ویڈیو سے لی گئی تصویر

ترک شہر استنبول سے پیر 16 مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ان سات مشتبہ دہشت گردوں کو مشرقی ترکی کے علاقے ایلازِگ میں مختلف مقامات پر مارے جانے والے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے متعدد ہتھیاروں کے علاوہ بہت سی اہم دستاویزات بھی برآمد کر لی گئیں۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولیہ نے لکھا ہے کہ گرفتار شدگان میں ایک ایسا شدت پسند بھی شامل ہے، جو داعش کا ’جلاد‘ ہے اور جو اپنے نام کے صرف دو ابتدائی حروف F.S. کے ذریعے جانا جاتا ہے۔ دولت اسلامیہ کے اس ’جلاد‘ کے بارے میں ترک حکام کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں اس عسکریت پسند گروہ کے زیر قبضہ کئی یرغمالیوں کو انتہائی سفاکانہ طور پر قتل کیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادی شام میں اپنے بہت جارحیت پسندانہ پراپیگنڈے کے ایک حصے کے طور پر اور عام لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے اپنے زیر قبضہ بہت سے مقامی اور غیر ملکی یرغمالیوں کو انتہائی ظالمانہ طور پر قتل کر چکے ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے دوگان نے لکھا ہے کہ آج گرفتار کیے گئے داعش کے مشتبہ جہادی اس گروپ کے لیے نئے جنگجو بھرتی کرنے کے لیے ابھی حال ہی میں شام سے ایلازِگ پہنچے تھے۔ ترک میڈیا نے ان گرفتاریوں کی اس سے زیادہ کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ترکی پر اس کے مغربی اتحادی ملک کافی عرصے تک یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ انقرہ حکومت نے داعش کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات کو بروقت روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے تھے، یہاں تک کہ یہ جہادی شام کے ترکی کے ساتھ سرحد کے قریبی علاقوں تک پر قابض ہو گئے تھے۔

Videostill Mohammed Emwazi alias Dschihadi John

’جہادی جان‘ نامی برطانوی جنگجو جس نے داعش کی طرف سے کئی یرغمالیوں کے سر قلم کیے اور جو شام میں ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا

اس کے برعکس ترکی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ شام کے ساتھ اپنی سرحد پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے طور پر ہر ممکن کوششیں کرتا رہا ہے۔ تاہم سلامتی امور کے متعدد ماہرین کے مطابق انقرہ حکومت نے ان جہادیوں کے خلاف شامی علاقوں میں اور اندرون ملک بھی بھرپور فوجی کارروائیاں اس وقت شروع کیں، جب ترکی میں مسلسل ایسے کئی خونریز حملے دیکھنے میں آئے، جن کی ذمے داری داعش نے قبول کر لی تھی۔

رواں ماہ کے اوائل میں اناطولیہ کی طرف سے شائع کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تب تک ترک حکام ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے 454 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر چکے تھے، جن میں سے 190 کو صرف گزشتہ چار مہینوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

اسی دوران ترک مسلح افواج کی طرف سے شام کی ریاستی حدود کے اندر داعش کے مختلف ٹھکانوں پر توپ خانے سے تقریباﹰ ہر روز گولہ باری بھی کی جا رہی ہے۔ ترک دستوں نے اپنی یہ کارروائیاں ترک سرحدی شہر کِیلِس پر داعش کے جنگجوؤں کی طرف سے بار بار کیے جانے والے راکٹ حملوں کے تناظر میں شروع کی تھیں۔

DW.COM