1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’داعش کا جرمنی میں خود کش بم حملے کا منصوبہ‘

جرمن شہر میونخ کے دو ریلوے اسٹیشن کل رات سال نو کے رش کے باوجود عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔ حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ خفیہ اطلاع بنی کہ عسکریت پسند گروہ داعش نے جرمنی میں ایک خود کش بم حملے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے جمعہ یکم جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق جرمن سکیورٹی اداروں کو ایک ’دوست ملک‘ کے خفیہ ادارے کی طرف سے یہ اطلاع ملی تھی کہ شام اور عراق میں وسیع تر علاقوں پر قابض دہشت گرد گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش جرمنی میں ایک خود کش بم حملہ کرنے کی تیاریوں میں ہے۔

یہ اطلاع ملنے کے بعد جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ کے دو اہم ریلوے اسٹیشن کل اکتیس دسمبر کی رات بارہ بجے سال نو کا جشن منانے کی تقریبات سے قریب ایک گھنٹے پہلے ہی بند کر دیے گئے۔

جرمنی میں عوامی سلامتی سے متعلق خدشات کے نتیجے میں یہ اقدام اسی طرح کا تھا، جیسے اقدامات کئی دوسرے یورپی دارالحکومتوں اور بڑے شہروں میں بھی کیے گئے تھے۔ اس انتہائی سخت سکیورٹی کا پس منظر عسکریت پسندوں کی طرف سے گزشتہ چند ماہ کے دوران یورپ میں کیے جانے والے وہ دہشت گردانہ حملے تھے، جن میں سے سب سے ہلاکت خیز حملے میں گزشتہ برس تیرہ نومبر کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں 130 افراد مارے گئے تھے۔

روئٹرز کے مطابق میونخ شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن اور اس سے آٹھ کلومیٹر دور واقع پاسِنگ Pasing کا ٹرین اسٹیشن کئی گھنٹے بند رکھے جانے کے بعد آج ہفتے کو علی الصبح دوبارہ کھول دیے گئے۔

صوبے باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان نے آج یکم جنوری کو علی الصبح ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جرمن حکام کو ایک ’دوست ملک‘ کی انٹیلیجنس ایجنسی سے یہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ داعش کی طرف سے میونخ میں ایک دہشت گردانہ حملے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے اس ’دوست ملک‘ کا نام تو نہیں بتایا لیکن ایک جرمن ٹیلی وژن ادارے کے مطابق جرمن حکام کو یہ خفیہ اطلاع فرانسیسی انٹیلیجنس نے دی تھی۔

یوآخم ہیرمان نے صحافیوں کو بتایا، ’’جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی جرمن ادارے بی کے اے نے باویریا کی پولیس کو بتایا تھا کہ اسے ایک دوست ملک کی انٹیلیجنس نے یہ خفیہ معلومات مہیا کی تھیں کہ سال نو کے موقع پر نصف شب کے قریب میونخ کے مرکزی ریلوے اسٹیشن اور پاسِنگ ٹرین اسٹیشن پر ایک یا ایک سے زائد بہت نپے تلے دہشت گردانہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

باویریا کے وزیر داخلہ نے مزید کہا، ’’میری رائے میں ان دونوں ریلوے اسٹیشنوں کو کئی گھنٹوں کے لیے بند کر دینے کا فیصلہ درست اقدام تھا۔ اس لیے کہ اگر کسی دہشت گردانہ حملے کے منصوبے کے ساتھ ساتھ جگہ اور وقت کے حوالے سے بھی واضح اشارے ملیں تو غیر ضروری خطرات مول لینا کسی بھی طرح عقل مندی نہیں ہوتی۔‘‘

DW.COM