1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کا افغان ٹیلی وژن اسٹیشن پر حملہ، چھ ہلاک

افغانستان کے صوبے ننگرہار میں سرکاری ٹیلی وژن اسٹیشن پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک جبکہ 17 دیگر زخمی ہو گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ داعش نے قبول کر لی ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے مطابق آج بدھ 17 مئی کو کیے جانے والے اس حملے میں سرکاری ریڈیو اور ٹیلی وژن اسٹیشن کی مشترکہ عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے بقول حملہ آوروں نے پہلے ایک بم دھماکا کیا، جس کے بعد ان کی سکیورٹی دستوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں صوبائی پولیس کے سربراہ کے دفتر نے بتایا کہ یہ حملہ خود کش بمباروں نے کیا۔

افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں ہونے والا یہ حملہ صحافیوں اور میڈیا کے خلاف حالیہ برسوں کے دوران ہونے والے حملوں کی تازہ ترین کڑی ہے۔ اس حملے سے محض ایک ہفتہ قبل ہی اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ افغانستان میں داعش کے سربراہ کو ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

افغانستان میں داعش نے ملک کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں پاکستانی سرحد کے قریب اپنے محفوظ ٹھکانے بنا لیے ہیں اور وہاں وہ افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے خلاف لڑ رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے صوبائی گورنر گلاب منگل کے حوالے سے بتایا ہےکہ صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں واقع سرکاری نشریاتی ادارے RTA کے دفتر     پر یہ حملہ چار خودکش حملہ آوروں نے کیا۔ ان میں سے ایک نے خود کو مرکزی داخلی دروازے پر دھماکے سے اڑا لیا۔ جس کے بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ افغان حکام کے مطابق تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق طالبان بھی صوبہ ننگرہار میں موجود ہیں تاہم ان کی طرف سے یہ حملہ کرنے کی تردید کی گئی ہے۔ داعش کے خلاف حالیہ کچھ عرصے کے دوران امریکی فضائی حملے اور خصوصی دستوں نے کئی آپریشن کیے ہیں۔ افغانستان میں داعش کے سربراہ عبدالحسیب کو اپریل کے اواخر میں ایک امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔