1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کا افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنظیم اس ملک کے 34 میں سے 25 صوبوں میں نئے جہادی بھرتی کرنے میں مصروف ہے۔

جمعہ چھبیس ستمبر کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا کہ شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قابض دہشت گرد گروہ اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ افغانستان میں طالبان کے درمیان پھوٹ کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور رفتہ رفتہ ہندو کش کی اس ریاست میں طاقت پکڑتا جا رہا ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز نے اقوام متحدہ کے مبصرین کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسندوں میں سے قریب دس فیصد اسلامک اسٹیٹ کے ہمدرد ہیں۔ اقوام متحدہ کی القاعدہ کے حوالے سے نگران ٹیم کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے متعدد صوبوں میں ایسے گروہ اور افرادکی تعداد میں، جو کھلے عام اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ ہمدری یا وابستگی کا اعلان کر رہے ہیں، تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

Bildergalerie IS in Afghanistan

افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے

افغان حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد گروہوں کے جنگجوؤں کو اسلامک اسٹیٹ کی وردیوں میں دیکھا گیا ہے، جب کے ملک کے 25 صوبوں میں اس کے ہمدردوں کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے حمایت یافتہ گروہ افغان فوج پر مسلسل حملوں میں ملوث ہیں جب کہ دیگر عسکریت پسند گروپوں سے ان کی جھڑپوں کی اطلاعات شاذ و نادر ہی ملتی ہیں، تاہم ننگرہار صوبے میں یہ گروہ منشیات کی تجارت اپنے قابو میں کرنے کے لیے طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف مسلسل لڑائی میں مصروف ہے۔

افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ کا سب سے اہم کمانڈر عبدالرؤف خادم ہے، جس نے اکتوبر 2014ء میں عراق کا دورہ کیا تھا۔ خادم افغان طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کا مشیر بھی تھا۔ اب خادم نے ہلمند اور فرح صوبے میں اپنا ایک عسکری گروہ قائم کر لیا ہے۔ اس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ عسکریت پسندوں کو بھاری معاوضوں پر بھرتی کرنے میں مصروف ہے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق ماضی میں پاکستان اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے ایسے عسکریت پسند جو القاعدہ سے گہرے مراسم کے حامل تھے، اب اسلامک اسٹیٹ کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں اور انہوں نے حالیہ کچھ ماہ میں اپنے آپ کو ’نئے خطوط پر استوار‘ کر لیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شام اور عراق سے قریب 70 جہادیوں کی ایک کھیپ افغانستان پہنچ چکی ہے اور اب وہ وہاں اسلامک اسٹیٹ کی شاخ کی مرکزی کمان سنبھالے ہوئے ہے۔