1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش نے روسی فوجی افسر کا سر قلم کر دیا: امریکی ویب سائٹ

عسکریت پسند گروپوں کی آن لائن کارکردگی پر نظر رکھنے والی ایک امریکی مانیٹرنگ ویب سائٹ ’سائٹ‘ کے مطابق شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے جنگجوؤں نے شام میں ایک روسی فوجی افسر کا سر قلم کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں دبئی سے منگل نو مئی کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں قائم SITE مانیٹرنگ گروپ کے مطابق داعش نے ایک ایسی نئی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ایک ایسے یرغمالی کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو ان شدت پسندوں کے بقول شام میں گرفتار کیا جانے والا ایک روسی انٹیلیجنس افسر تھا۔

اس بارے میں روسی وزارت دفاع اور روسی سکیورٹی سروس ایف ایس بی کی طرف سے کوئی فوری ردعمل تو سامنے نہیں آیا تاہم روئٹرز کے مطابق 12 منٹ دورانیے کی روسی زبان میں بنائی گئی یہ ویڈیو ایک ایسے دن جاری کی گئی ہے، جب روس میں دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں 1945ء میں نازی جرمنی پر فتح کی سالگرہ بہت بڑی فوجی پریڈ کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

شام میں ’محفوظ علاقے‘ قائم کرنے کا منصوبہ عمل میں آ گیا

شام پر دوبارہ میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں، امریکا

’اسد حکومت بہت سی حدیں پار کر گئی‘: ٹرمپ کی شام کو دھمکی

روئٹرز نے لکھا ہے کہ اس ویڈیو میں سیاہ رنگ کے ایک جوگنگ سوٹ میں ملبوس ایک شخص ایک صحرائی علاقے میں گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا نظر آتا ہے، جو دیگر روسی ایجنٹوں سے یہ مطالبہ کرتا سنائی دیتا ہے کہ انہیں اپنے ہتھیار پھینک دینا چاہییں۔

اسی ویڈیو میں پس منظر سے آنے والی ایک آواز میں ایک شخص کہتا ہے، ’’اس بے وقوف نے یقین کر لیا تھا کہ اگر وہ پکڑا گیا تو اس کا ملک اسے اس کے حال پر نہیں چھوڑے گا۔‘‘ اس منظر کے بعد اس ویڈیو میں ایک داڑھی والا شخص ایک خنجر کے ساتھ اس یرغمالی کا سر قلم کر دیتا ہے۔

Syrien Russische Luftangriffe (Reuters/K. Ashawi)

روس نے شامی صدر بشارالاسد کی ‌حم‍ایت میں شامی باغیوں اور عسکریت پسندوں پر فضائی حملے ستمبر دو ہزار پندرہ میں شروع کیے تھے

روئٹرز کے مطابق اس ویڈیو کے اصلی یا نقلی ہونے کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور یہ بھی واضح نہیں کہ شام میں اس مبینہ روسی انٹیلیجنس افسر کا سر کب قلم کیا گیا۔

شام میں روسی دستے صدر بشار الاسد کی حمایت میں ان باغیوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، جو صدر اسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں۔ روئٹرز نے ’سائٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس ویڈیو میں ایسے مناظر بھی دکھائے گئے، جنہیں شام میں روسی فضائی حملوں کا نتیجہ بتایا گیا۔

ستمبر 2015ء میں، جب روس کے شام بھیجے جانے والے دستوں نے وہاں اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں، تب سے اب تک مشرق وسطیٰ کے اس جنگ زدہ ملک میں خود ماسکو میں روسی وزارت دفاع کے مطابق 30 روسی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات