1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش نے بوکوحرام کا نیا سربراہ مقرر کر دیا

نائجیریا میں سرگرم شدت پسند گروپ بوکوحرام کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ نئے سربراہ نے مساجد اور عام مسلمانوں کی مارکیٹوں کو نشانہ بنانے کا عمل روک کر اب چرچوں اور مسیحیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بوکوحرام کے نئے سربراہ کے بارے میں معلومات دہشت گرد تنظیم داعش کی طرف سے شائع کیے جانے والے ایک انٹرویو سے حاصل ہوئی۔ دہشت گرد گروپوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے امریکی گروپ SITE انٹیلیجنس کے مطابق یہ انٹرویو داعش کے اخبار النباء میں بدھ کے روز شائع ہوا۔ اس اخباری انٹرویو کے مطابق داعش کی طرف سے نام دیے گئے علاقے ’صوبہ مغربی افریقہ‘ کے نئے ’ولی‘ یعنی گورنر کا نام نے ابو مصعب البرناوی ہے۔ ولی کا لقب قبل ازیں طویل عرصے تک بوکوحرام کا سربراہ رہنے والے ابوبکر الشکوی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں الشکوی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تاہم اس بارے میں کئی ہفتوں سے اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اسے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق البرناوی کے انٹرویو سے اندازہ ہوتا ہے کہ نائجیریا میں سرگرم شدت پسند کی حکمت عملی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ یہ گروپ مسجدوں پر خودکش بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں مسیحیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ بوکوحرام مسلمانوں کے علاقوں میں مارکیٹوں پر حملے اور اسکول کے بچوں کو اغواء کرنے میں بھی ملوث رہی ہے کیونکہ یہ گروپ مغربی تعلیم کو گناہ قرار دیتی ہے۔

رپورٹ میں ابوبکر الشکوی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تاہم اس بارے میں کئی ہفتوں سے اطلاعات ہیں کہ اسے تبدیل کر دیا گیا ہے

رپورٹ میں ابوبکر الشکوی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تاہم اس بارے میں کئی ہفتوں سے اطلاعات ہیں کہ اسے تبدیل کر دیا گیا ہے

SITE کے مطابق نئے سربراہ کا کہنا تھا، ’’وہ معاشرے کو مسیحی بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ وہ جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والوں کی حالت زار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں خوراک اور ٹھکانہ فراہم کر کے ان کے بچوں کو مسیحی بنا رہے ہیں۔‘‘

البرناوی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند اس کا جواب دیں گے اور ان تمام چرچوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنائیں گے جہاں تک وہ پہنچ سکیں گے اور مسیحیوں کو قتل کریں گے۔

ایک تجزیہ کار جیکب زین کے مطابق بدھ کے روز شائع ہونے والے انٹرویو سے بوکوحرام سے انصارو نامی گروپ کی علیحدگی اور اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شدت پسند مسلمانوں کے گروپ اب القاعدہ کو چھوڑ کر داعش سے وابستہ ہو رہے ہیں۔ انصارو گروپ کی بوکوحرام سے علیحدگی کی وجہ یہ ہے کہ یہ گروپ سویلین کے بلا تفریق اور خاص طور پر مسلمانوں کے قتل کے خلاف ہے۔

جیکب زین کے مطابق البرناوی دراصل نائجیریا کے ایک صحافی کا فرضی نام ہے جس کا تعلق انصارو گروپ سے رہا ہے اور جو غیر ملکیوں کے اغواء کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ رواں برس مارچ میں ابوبکر شیخاؤ نے القاعدہ سے تعلق ختم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ بوکوحرام کو اب صوبہ مغربی افریقہ میں دولت اسلامیہ کا نام دے دیا گیا ہے۔