1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

داعش مہاجرین کو منظم طریقے سے یورپ تو نہیں بھیج رہی؟

اطالوی وزیر انصاف کا کہنا ہے کہ روم حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں شام، عراق اور لیبیا میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش منظم طریقے سے تارکین وطن کو بحیرہ روم کے راستوں سے یورپ کی طرف تو نہیں بھیج رہی؟

رواں برس مارچ کے مہینے میں ترکی اور یورپی یونین کے مابین تارکین وطن کی واپسی کا معاہدہ طے پانے کے بعد بحیرہ ایجیئن کے راستوں سے یونان کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ لیکن اس معاہدے کے بعد سے لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے راستے اٹلی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

لیبیا کی بحرانی صورت حال اور داخلی انتشار کا سب سے زیادہ فائدہ جرائم پیشہ افراد نے اٹھایا ہے اور وہ بھاری رقوم کے عوض تارکین وطن کو خطرناک سمندری سفر کے ذریعے یورپ پہنچانے کا منافع بخش کاروبار کر رہے ہیں۔

اطالوی وزیر انصاف آندریا اورلانڈو نے ملکی پارلیمان کی ایک کمیٹی کو بتایا، ’’دستیاب معلومات کی روشنی میں اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ تارکین وطن کو منظم طریقے سے اٹلی کی جانب بھیجنے میں داعش سے منسلک افراد کا کردار کتنا ہے؟‘‘

انہوں نے تارکین وطن سے متعلق اطالوی پارلیمانی کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ اس ضمن میں کی جانے والی تحقیقات کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اورلانڈو کے مطابق، ’’ہم جو خطرات مول لے رہے ہیں وہ انتہائی زیادہ ہیں۔‘‘

اطالوی وزیر انصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بارے میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ عسکریت پسند شاید ان فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تارکین وطن کو اٹلی میں کن علاقوں میں رکھا جاتا ہے۔

اس سے پہلے جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی کہہ چکی ہیں کہ دہشت گرد گروہ مہاجرین کے بحران کی آڑ میں اپنے اراکین کو یورپ کی جانب بھیج رہے ہیں۔

خستہ حال کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستوں سے اطالوی جزیروں تک پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اس برس اضافہ ہوا ہے۔ سال رواں کے آغاز سے اب تک دو لاکھ 70 ہزار سے زائد تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق اس سال اب تک چار ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک بھی ہو چکے ہیں جن کی اکثریت بحیرہ روم کے غیر محفوظ سفر کے دوران ڈوب کر ہلاک ہوئی۔

ہزاروں پناہ گزین اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

DW.COM