1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

داعش مہاجرین سے متعلق جاری بحث سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جرمن وزیر

جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ پیرس حملوں میں ملوث جنگجوؤں اور مہاجرین کے مابین فوری طور پر کوئی تعلق تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یوں عوام میں غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

Balkan Flüchtlinge

شامی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یورپ کا رخ کر رہی ہے، جن میں سے زیادہ تر جرمنی پہنچنے کے خواہشمند ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراق و شام میں سرگرم انتہا پسند گروہ داعش اس مخصوص صورتحال میں یورپ میں مہاجرین کے بحران سے متعلق جاری بحث کو اپنے عزائم کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگجوؤں اور مہاجرین میں تفریق ضروری ہے اور اس حوالے سے کسی غلط فہمی پر مبنی بحث کو شروع کرنے سے باز رہنا چاہیے۔

یہ امر اہم ہے کہ پیرس میں جمعے کے شب ہوئے حملوں کے دوران ایک حملہ آور کی لاش کے قریب سے مبینہ طور پر ایک شامی پاسپورٹ بھی ملا تھا۔ یوں ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کم ازکم ایک حملہ آور بطور شامی مہاجر یورپ میں داخل ہوا۔ تاہم ہائیکو ماس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے جلد بازی کی ضرورت نہیں بلکہ جب تک تفتیشی عمل مکمل نہیں ہو جاتا تب تک کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہیے۔

ہائیکو ماس نے نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے ساتھ گفتگو میں شامی پاسیورٹ کے برآمد ہونے پر کہا کہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) اس طرح کی چالاکی سے یورپ میں مہاجرین کے بحران سے سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہادی اس حکمت عملی سے لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ ماس کے مطابق اس مخصوص صورتحال میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ شامی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یورپ کا رخ کر رہی ہے، جن میں سے زیادہ تر جرمنی پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔

قبل ازیں جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزئیر اور وزیر دفاع ارسلا فان ڈیئر لائن نے بھی ویک اینڈ پر کہا تھا کہ پیرس پر حملہ کرنے والوں اور شامی مہاجرین کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ میزیئر کے مطابق، ’’میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ جب تک کوئی ٹھوس شواہد نہیں مل جاتے مہاجرین کے بحران کے تناظر میں ایسی بیان بازی سے احتراز کیا جائے۔‘‘

Bundesjustizminister Heiko Maas

جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس نے خبردار کیا کہ جنگجوؤں اور مہاجرین میں تفریق ضروری ہے

جرمن وزیر دفاع فان ڈیئر لائن کے مطابق دہشت گرد اتنے زیادہ منظم ہیں کہ انہیں یورپ پہنچنے کے لیے مشکل اور دشوار گزار راستے اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ یورپ میں مہاجرین کے بحران کی وجہ سے سب سے زیادہ انتظامی مسائل جرمنی کو ہی لاحق ہیں، جہاں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پہنچ چکی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پیرس حملوں کے نتیجے میں جرمنی میں قائم مہاجرین کے کیمپوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔