1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش اور القاعدہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، العالمی کا دعویٰ

پاکستان میں فعال کالعدم جنگجو گروہ لشکر جھنگوی کے ایک ذیلی گروہ العالمی نے کہا ہے کہ وہ ملک میں حملوں کی خاطر داعش اور القاعدہ دونوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

شدت پسند گروہ ’العالمی‘ کے ترجمان علی بن سفیان نے کہا ہے کہ وہ ہر اس گروہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، ’’جو پاکستانی فوج کے خلاف حملوں میں ان کی مدد کرے گا‘۔ اس جنگجو نے مزید کہا ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں کی خاطر انتہا پسند گروہ داعش اور دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

کوئٹہ حملہ لشکر جھنگوی سے الگ ہونے والے ایک گروہ نے کیا

کوئٹہ میں شیعہ خواتین قتل: لشکر جھنگوی العالمی بدستور سرگرم
کراچی میں رینجرز کا آپریشن جاری، ستانوے دہشت گرد گرفتار

 پاکستان میں لشکر جھنگوی نامی کالعدم گروہ ماضی میں شیعہ کمیونٹی پر کیے گئے متعدد خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ تاہم ب یہ شدت پسند گروہ پاکستانی حکومتی اہداف کو نشانہ بھی بنانے لگا ہے۔

گزشتہ برس لشکر جھنگوی کی اہم قیادت کو پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تاہم یہ گروہ ابھی تک حملے کرنے میں کامیاب ہے۔ اب العالمی کی طرف سے داعش اور القاعدہ کے اتحاد کی خبروں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک نئی پریشانی پیدا کر دی ہے۔

سکیورٹی تجزیہ نگار عامر رانا نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا ہے، ’’شام اور عراق میں داعش کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس لیے یہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں چھوٹے جنگجو گروہوں کے ساتھ اتحاد بنا کر اپنی طاقت اور ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ ورانہ بنیادوں پر قائم ہونے والی تنظیم لشکر جھنگوی دراصل داعش کی ایک قدرتی اتحادی ہے۔

Pakistan Militär Patrouille Peschawar (picture-alliance/dpa/B. Arbab)

پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائی جاری ہے

اسلام آباد حکومت ایسی خبروں کو مسترد کرتی ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود ہے۔ تاہم مشرق وسطی میں فعال اس جنگجو گروہ نے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

علی بن سفیان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا گروہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو تعاون فراہم کرتا ہے۔ اس شدت پسند رہنما نے تاہم واضح کیا کہ داعش جیسے گروہوں کے ساتھ تعاون کے تحت صرف پاکستان میں ہی کارروائیاں کی جائیں گی۔

 

DW.COM