1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش اور افغان فورسز کے مابین جھڑپیں، سینکڑوں خاندان بے گھر

افغانستان کے مشرق میں داعش اور افغان فورسز کے مابین گزشتہ کئی روز سے جاری لڑائی کے نتیجے میں چار سو سے پانچ سو کے درمیان خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ حکومتی فورسز نے ایک سو ساٹھ جنگوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

مشرقی صوبے ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوگیانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے کے لیےانہوں نے اپنی ٹیمیں متاثرہ علاقے کوٹ میں روانہ کر دی ہیں۔

اس ترجمان کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں کا آغاز گزشتہ جمعے کے روز اس وقت ہوا تھا، جب عراق اور شام میں برسرپیکار جہادی تنظیم داعش سے منسلک افغان جنگجوؤں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا تھا۔

خوگیانی نے ان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم ایک سو ساٹھ جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے تاہم آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس لڑائی میں سات افغان فوجی اور پانچ شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ شہریوں اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد کم از کم تیس بتائی گئی ہے۔

خوگیانی کا مزید کہنا تھا، ’’داعش کے عسکریت پسندوں نے کوٹ کے رہائشیوں کے کم از کم نوے گھروں کو بھی جلا دیا ہے۔‘‘ اطلاعات کے مطابق علاقائی حکومت نے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے امداد بھیجنا شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب ننگرہار صوبے کے گورنر سلیم خان قندوزی نے داعش پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش کسی کی عزت نہیں کرتی۔ وہ عورتوں اور بچوں تک کو قتل کرنے سے باز نہیں آتی۔ وہ مدرسوں، اسکولوں اور مساجد تک کو تباہ کر رہی ہے۔‘‘

صوبائی پولیس سربراہ زورآور زاہد کا کہنا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہل کار اور فوجی اس علاقے میں داعش سے نبردآزما ہیں اور علاقائی حکام نے کابل سے مزید فوجی دستے طلب کر لیے ہیں۔

کابل میں ایک اجتماع کے دوران افغان سول سوسائٹی فیڈریشن کے سربراہ صادق انصاری نے مقامی حکومتی اہل کاروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ داعش کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ننگرہار کے حکام کو ’’ہر خون کے قطرے کا حساب دینا چاہیے تاکہ دوسرے صوبوں کے حکام کو اس سے سبق حاصل ہو۔‘‘

ماہرین کی جانب سے بارہا توجہ دلانے کے باوجود افغان حکومت داعش کے خطرے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی جتنا کہ وہ طالبان کو دیتی ہے۔