1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دارفور میں جنگی حالت ختم، جنرل اگوائی

افریقی ملک سوڈان کے بحران زدہ علاقے دارفور کے لئے اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے مشترکہ امن مشن کے سربراہ جنرل اگوائی نے کہا ہے کہ دارفور کا خطہ اب جنگ کی حالت میں نہیں ہے۔

default

دارفور میں مہاجرین کا ایک کیمپ

دارفور میں عالمی ادارے اور افریقی یونین کا مشترکہ مشن UNAMID کہلاتا ہے اور اس امن مشن میں شامل فوجی دستوں کے سربراہ مارٹن لوتھر اگوائی نے اس بحران زدہ خطے کے تفصیلی دورے کے بعد جمعرات کی شام صحافیوں کو بتایا کہ اب یہ بات کہنا غلط ہو گا کہ دارفور کو جنگی حالات کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس وہاں مسلح باغیوں کا اب صرف ایک ایسا گروہ باقی بچا ہے جو ابھی بھی عسکریت پسندانہ حملے کر سکتا ہے، مگر جس کی خونریز کارروائیاں کر سکنے کی صلاحیت بہت محدود ہے۔

Darfur UNAMID

دارفور میں فرائض انجام دینے والے امن فوجی

مارٹن لوتھر اگوائی نے خرطوم میں صحافیوں کو بتایا کہ آج کے دارفور میں عمومی صورت حال کو حالت جنگ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے بقول دارفور میں وسیع پیمانے پر خونریزی اب بہت کم ہو کر مجرمانہ نوعیت کے ایسے واقعات میں بدل چکی ہے جو بہت شدید نہیں ہیں، اور جن پر مغربی سوڈان کے اس علاقے میں دیرپا امن کے کسی جامع سمجھوتے کے بغیر مکمل قابو پانا ایک طویل عرصے تک ممکن نہیں ہوگا۔

UNAMID کے سربراہ اگوائی کے ان دعووں کے برعکس دارفور میں ابھی تک سرگرم عمل باغیوں نے نہ صرف اس خطے میں جنگی حالت کے بتدریج خاتمے کی تردید کی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ دارفور میں باغی قوتیں پوری طرح مسلح ہیں، اور وہ سوڈانی حکومت کے دستوں پر مستقبل قریب میں بھرپور حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

Milizen im Darfur

سوڈانی باغیوں کی تحریک برائے انصاف اور مساوات نامی تنظیم کے مسلح ارکان، فائل فوٹو

دارفور کے چھ سال قبل شروع ہونے والے مسلح تنازعے میں اب تک لاکھوں انسان بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق وہاں اب تک قریب تین لاکھ انسان ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ تاہم عالمی ادارے کے ان اعدادوشمار کی نفی کرتے ہوئے خرطوم میں سوڈانی حکومت کا مئوقف یہ ہے کہ دارفور کے تنازعے میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد صرف دس ہزار بنتی ہے۔

دارفور میں امن مشن کے سربراہ اور نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے فوجی جنرل مارٹن لوتھر اگوائی کے مطابق سوڈان کے اس علاقے میں کوئی باغی تنظیم اگر ابھی بھی مسلح حملے کر سکتی ہے تو وہ تحریک برائے انصاف اور مساوات JEM ہے۔ تاہم جنرل اگوائی کے بقول اب یہ تنظیم بھی اس حالت میں نہیں ہے کہ باقاعدہ جنگی کارروائیاں کرتے ہوئے کسی نئے علاقے پر قابض ہو جائے اور پھر اسے اپنے کنٹرول میں بھی رکھ سکے۔

اس کے برعکس باغیوں کی تحریک برائے انصاف اور مساوات کے سربراہ خلیل ابراہیم نے جمعرات ہی کے روز یہ کہا کہ دارفور میں ماضی کے مقابلے میں ان دنوں نظر آنے والا امن کا محدود عرصہ دراصل وہ خاموشی ہے جو کسی بھی طوفان سے پہلے دیکھنے میں آتی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: کشور مصطفےٰ

DW.COM