1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دارفور تنازعہ کا ذمہ دار میں ہوں، صدر عمر البشیر

سوڈانی صدرعمر البشیر نے درافوار تنازعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ گارڈین کے دیے گئے ایک انٹرویو میں البتہ انہوں نے بین الاقوامی فوجدرای عدالت پر الزام عائد کیا کہ اس نے ’جھوٹ کی ایک مہم‘ شروع کر رکھی ہے۔

default

صدر عمر البشیر

برطانوی اخبار گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے عمر البشیر نے کہا،’ میں صدر ہوں، اس لیے ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے لیے میں ذمہ دار ہوں‘۔ جولائی 2010ء میں بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC نے صدرعمرالبشیر پر قتل عام کے الزامات عائد کیے تھے۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق دارفور تنازعہ کے نتیجے میں آٹھ برس کے دوران کم ازکم تین لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوڈانی صدرعمر البشیر کے بقول دارفور کا تنازعہ بہت پرانا اور روایتی ہے۔ انہوں نے دارفور میں حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا،’ بطور حکومت ہم ان طاقتوں کے خلاف لڑے، جنہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران کچھ باغیوں نے مقامی قبائل پر حملہ بھی کیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔

Sudan ausgegrabene Schädel aus Massengrab

اقوام متحدہ کے بقول درافور تنازعہ میں کم ازکم تین لاکھ افراد لقمہ اجل بنے

صدرعمرالبشیر نے کہا کہ مغربی میڈیا میں ہلاکتوں کی تعداد دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی،’ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ باغیوں کے خلاف لڑے، لیکن اس دوران ہم نے دارفور کے مقامی افراد کو کوئی زک نہیں پہنچائی‘۔ 2003ء میں شروع ہونے والے اس تنازعہ کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریبا 1.8 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

عمرالبشیر نے گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ICC کی طرف سے ان پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالت کے چیف پراسیکیوٹر لوئیس مورینو اوکامپو کا رویہ منصفوں والا نہیں بلکہ سیاسی کارکنوں والا ہے۔

دوسری طرف سوڈان میں پر تشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جنوبی سوڈان کی فوج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز Mayom کاؤنٹی میں باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے نتیجے میں بیس فوجی ہلاک ہو گئے۔ تیل کی دولت سے مالا مال سے علاقے میں باغی ملیشیا کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس