1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دارالحکومت دمشق سمیت شام بھر میں مظاہروں میں شدت

شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مظاہروں میں جمعے کے روز مزید شدت دیکھنے میں آئی، جب ہزاروں مظاہرین نے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح دمشق میں بھی جمہوریت کے حق میں شدید نعرے بازی کی اور مارچ کیا۔

default

بشار الاسد کے گیارہ سالہ دور صدارت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں مظاہرین نے نماز جمعہ کے بعد دمشق سمیت ملک کے متعدد شہروں میں سڑکوں پر گشت کیا۔ یہ مظاہرین ’خدا، شام اور آزادی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ دمشق کے مختلف نواحی علاقوں سے شہر کے مرکز میں جمع ہونے کی کوشش کرنے والوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے۔

سکیورٹی فورسز نے متعدد مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے متعدد مظاہرین کو زدوکوب بھی کیا۔ ایک شہری کے مطابق، ’پولیس والے مظاہرین کی طرف بڑھتے ہوئے زور زور سے چیخ رہے تھے، دراندازو! تمہیں آزادی چاہیے؟ ہم تمہیں آزادی دیتے ہیں۔‘

Syrien Demonstration gegen Präsident Bashar El Assad in Deraa

مظاہرین نے راستے میں موجود بشارالاسد کی تصاویر کو بھی پھاڑ دیا

مضافاتی علاقے حرستا سے دمشق کے مرکز پہنچنے کے لیے کوشاں ایک عوامی ریلی کے ہمراہ موجود ایک شہری کا کہنا تھا کہ ہزاروں افراد ملک سے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ ’’مظاہرین نعرے بازی کر رہے تھے کہ عوام بشار الاسد اور ان کی حکومت کو اٹھا کر باہر پھینکنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ان مظاہرین کو جہاں کہیں بشار الاسد کی تصویر کا حامل کوئی پوسٹر نظر آیا، اسے پھاڑ دیا گیا۔‘‘

ماہرین کے مطابق بشارالاسد حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے باعث ابتدا میں صرف جنوبی شہر درعا میں شروع ہونے والے یہ مظاہرے اب ملک کے تقریبا تمام اہم شہروں میں پھیل چکے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے سیاسی اور جمہوری اصلاحات کے اعلانات اور وعدوں کے باوجود ان مظاہروں کی شدت میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ شام کے جنوبی شہر درعا میں حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ایک ٹین ایجر کو اسکول کی دیواروں پر جمہوریت کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے تحریر کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عوام کی طرف سے ابتدا میں اس طالب علم کی رہائی کے مطالبات کیے جا رہے تھے، تاہم مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن اور کارروائیوں کے باعث یہ مظاہرے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلتے چلے گئے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM