1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

داتا دربار پر حملے، ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے

لاہورمیں مدفون معروف صوفی سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے دربار پرکئے گئے خود کش حملوں کے خلاف جمعہ کو پاکستان کے کئی اہم شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔

default

جمعرات کی رات لاہور میں واقع داتا دربار پر دو خود کش حملوں کے نتیجے میں کم ازکم 43 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ انتہا پسندوں کے اس حملے کے بعد مظاہرین نے لاہورسمیت کئی دیگر شہروں میں احتجاج کے طورپرٹائرنذر آتش کئےاورکئی اہم شاہراہیں بند کردیں۔

مظاہرین نے نماز جمعہ کے بعد داتا دربار کے باہر ایک بڑی ریلی نکالی۔ اندازوں کے مطابق اس احتجاج میں کم ازکم پانچ ہزارافراد نے شرکت کی۔ ان میں زیادہ تر داتا گنج بخش کے عقیدت مند تھے۔

اسی طرح ملتان شہر میں سبز ٹوپیاں اورپگڑیاں پہنے ہوئے مظاہرین نے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

No-Flash Selbstmordattentat in Pakistan

داتا دربار پر حملوں کے نتیجے میں کم ازکم 43 افرادہلاک ہوئے

دریں اثناء پاکستان میں سنی تحریک نے ان حملوں کی مذمت کے لئے ہفتہ کے دن عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کو کراچی میں ایک بڑی ریلی میں شرکت کے بعد سنی تحریک کے رہنما حنیف طیب نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ہڑتال پر امن طریقے سے منائی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق کراچی میں کوئی ایک ہزار افراد نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔

جمعہ کو لاہور شہر میں زیادہ تر بازار بند رہے اور پولیس کی بھاری نفری حساس مقامات پر تعینات رہی۔ لاہور انتظامیہ کے سربراہ سجاد بھٹہ نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا ہے کہ داتا دربار پر کئے گئے حملوں میں 43 افراد ہلاک جبکہ 112 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا : ’’ ان حملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو انتہا پسندوں سے کس طرح کے خطرات لاحق ہیں۔‘‘ برطانوی حکام نے ان حملوں کو ’غیرانسانی عمل‘ قرار دیا ہے۔

پاکستان کے اتحادی ملک امریکہ نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونرنے وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی عوام کے لئے بھی کوئی احترام نہیں رکھتے ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔

Pakistan Selbstmordanschlag

ان حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے

پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد حکومت دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان بھر میں مختلف بم حملوں میں کم ازکم 34 سو افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انتہا پسندوں نے یہ حملے اس وقت شروع کیے تھے جب پاکستانی فوج نے ملک کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت : عابد حسین

DW.COM