1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دائیں بازو کے بنیاد پرست نے پولیس پر فائرنگ کردی

دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ کے رکن نے فائرنگ کر کے چار پولیس اہلکاروں کو زخمی کر دیا ہے۔ جرمنی میں یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پولیس اسے وارنٹ پہنچانے گئی۔ زخمی ہونے والے اس شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

جرمن علاقے مِڈل فرانکونیا کی پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق  بدھ 19 اکتوبر کو پیش آنے والے اس واقعے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دائیں بازو کی تحریک کے ایک رُکن کی گرفتاری عمل میں آئی۔ زخمی ہونے والے ایک پولیس افسر کی حالت تشویشناک ہے۔

جرمن ریاست باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان کے مطابق اس حملے کے تناظر میں حکام کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے خطرات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ ’’رائش بُرگر‘‘ نامی اس تنظیم کے ارکان کس حد تک ہتھیاروں کے مالک ہیں۔

پولیس نے ایک 49 سالہ شخص کے گھر پر چھاپہ مارا جس کا مقصد اس شخص کے پاس موجود ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینا تھا کیونکہ حکام کے خیال میں اس کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی خطرناک ہو سکتی تھی۔ تاہم یہ ہتھیار قانونی تھے۔

Georgensgmünd Reichsbürger schießt auf Polizisten Bayerns Innenminister Joachim Herrmann (picture alliance/dpa/D. Karmann)

جرمن ریاست باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان کے مطابق اس حملے کے تناظر میں حکام کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے خطرات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا

پولیس نے جب چھاپہ مارا تو اس شخص نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ حراست میں لیے جانے سے قبل یہ شخص خود بھی معمولی زخمی ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مشتبہ شخص ’رائش بُرگر‘ نامی تحریک سے تعلق رکھتا ہے۔ اس تحریک کے ارکان موجودہ وفاقی جرمنی کے وجود کو نہیں مانتے۔ اس تحریک کا آغاز دوسری عالمی جنگ کے بعد ہوا اور ان کا کہنا ہے کہ جرمن سلطنت اسی طرح قائم ہونی چاہیے جیسی وہ 1937ء سے قبل تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ رائش بُرگر تحریک سے تعلق رکھنے والے کسی رکن نے پولیس کے ساتھ متشدد رویہ اختیار کیا ہو۔ سیاستدانوں اور قانون فافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ اس تحریک کے بہت سے ارکان کو دائیں بازو کے شدت پسند کہا جا سکتا ہے۔