1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دائیں بازو کی جماعت جرمن فٹ بالر بواٹینگ کے خلاف کیوں؟

جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے ایک سرکردہ رہنما اُس وقت شدید عوامی دباؤ میں آ گئے، جب انہوں نے قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی جیرومی بواٹینگ کے خلاف نسل پرستانہ بیانات دیے۔

آلٹرنیٹو فار جرمنی (جرمنی کے لیے متبادل) نامی جماعت کے نائب سربراہ نے اخبار ’فرانکفرٹر الگمائنے‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ جرمن شہری بواٹینگ کو اپنے پڑوسی کی حیثیت سے قبول نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ بواٹینگ جرمنی کی قومی فٹ بال ٹیم کے لیے ’ڈیفینڈر‘ یا دفاعی کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلتے ہیں۔ ان کے والد کا تعلق گھانا سے ہے اور ان کی پیدائش اور پرورش برلن میں ہوئی تھی۔

DW.COM

اے ایف ڈی کے نائب سربراہ الیگزانڈر گاؤلانڈ کا کہنا تھا، ’’لوگ بواٹینگ کو ایک اچھا کھلاڑی تسلیم کرتے ہیں، تاہم وہ خود انہیں اپنے پڑوسی کی شکل میں نہیں دیکھنا چاہیں گے۔‘‘

اس بیان کے بعد گاؤلانڈ پر ہر طرف سے تنقید شروع ہو چکی ہے۔ جرمن فٹ بال لیگ کے صدر رائن ہارڈ گرینڈیل نے اے ایف ڈی کے نائب سربراہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کے بیان کو ’’واضح طور پر بے ذائقہ‘‘ قرار دیا۔ وہ مزید کہتے ہیں: ’’بواٹینگ ایک زبردست کھلاڑی اور زبردست انسان ہیں۔ وہ سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور وہ نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں۔‘‘

جرمنی کی قومی ٹیم کے منیجر اولیور بیئرہوف کا اس بارے میں کہنا تھا: ’’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہمیں اس طرح کے بیانات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ہمیں ان کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو لوگ اس طرح کے بیانات دیتے ہیں، وہ خود ہی اپنا نقصان کرتے ہیں۔‘‘

جرمنی کے وزیر انصاف ہائیکو ماس نے اے ایف ڈی کے رہنما کے بیان کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا اور کہا: ’’جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، وہ اپنے چہرے پر پڑا نقاب اٹھا دیتے ہیں۔‘‘

اے ایف ڈی ایک مہاجر مخالف سیاسی جماعت ہے اور یہ تین سال قبل وجود میں آئی تھی۔ اس جماعت کی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک یورپ میں پیدا ہونے والا مہاجرین کا بحران بھی ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں صرف جرمنی میں ہی گزشتہ برس ایک ملین سے زائد مہاجرین پہنچے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں۔ اے ایف ڈی کو اب تک وفاقی جرمن پارلیمان میں نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی ہے تاہم اس جماعت کے متعدد اراکین جرمنی کی سولہ میں سے نصف ریاستوں کی اسمبلیوں میں پہنچ چکے ہیں۔