1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خیبر پختونخوا: ہیروئن کا نشہ اور HIV کا پھیلاؤ

صوبہ خیبر پختونخوا میں، جہاں ہزاروں افراد چرس اور دیگر منشیات استعمال کرتے ہیں، وہاں ہیروئن استعمال کرنےوالوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں نوجوانوں کے علاوہ خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

default

بالخصوص سرنج کے ذریعے ہیروئن استعمال کرنے والوں میں 58 فیصد ایڈز کا شکار ہیں۔ مردوں کے علاوہ اس وقت پشاور کے مختلف علاقوں میں ہیروئن استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد 35 جبکہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد بھی 500 سے زیادہ ہے ۔ پشاور میں 35 سے زیادہ ایسے مقامات ہیں جہاں ہیروئن استعمال کرنے والوں نے اپنے ڈیرے جما رکھے ہیں اور یہ ٹھکانے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں ہیں۔ اس کے علاوہ ہیروئن فروخت کرنے کے مراکز بھی اب پولیس سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، تاہم ہیروئن کی اسمگلنگ میں ملوث بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنا پولیس کےلئے بظاہر آسان نہیں ہے۔

کئی غیر سرکاری تنظیمیں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت نشے کے عادی افراد کی بحالی کے ساتھ ساتھ منشیات کی نقل وحمل روکنے کےلئے بھی مؤثر اقدامات اٹھائے تو تسلی بخش نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر حبیب اللہ کہتے ہیں: ’’نشے کی عادت بنیادی طور پر معاشرتی ناہمواری کانتیجہ ہے۔ ہمارے صوبے میں گزشتہ تیس برسوں سے مہنگائی اور بےروزگاری اپنے عروج پر ہیں۔ پہلے لاکھوں افغان مہاجریں مقامی معیشت پر بوجھ بنے بیٹھے تھے مگر اب تو قبائلی علاقوں سے بھی لاکھوں افراد بدامنی اور بیروزگاری کی وجہ سے صوبے کے شہری علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ غربت کا یہ عالم ہے کہ ہمارے پاس علاج کے لئے جو لوگ آتے ہیں، ان کے پاس معمولی سی رقم بھی نہیں ہوتی اور بعض تو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ اس لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہاں پران کا علاج اور مناسب دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس علاج کے لئے آنے والے افراد میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو بیروزگاری سے تنگ آ کر نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔ نشہ آور اشیاء بالخصو ص ہیروئن کا استعمال اس لئے بھی بڑھ رہا ہے کہ یہ پشاور کے چند مخصوص علاقوں میں باآسانی مل جاتی ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نشہ چھوڑنے والے افراد کی بحالی کے لئے خصوصی مراکز بنائے اور اگر انہیں روزگار بھی دیا جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ افغانستان سے ہیروئن کی سپلائی کو روکا جائے۔‘‘

Peshawar - Drug and Heroin addicts

پشار میں چند افراد ہیروئن کے دھوئیں میں غرق

پشاور اور ملحقہ قبائلی علاقے افغان سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں سے منشیات آسانی سے پشاور پہنچائی جاتی ہیں۔ پورے ملک سے نشے کے عادی افراد یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ پشاور اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے درمیانی علاقے منشیات کے بڑے مراکز ہیں، جہاں سینکڑوں ہیروئن استعمال کرنے والے دیکھے جا سکتے ہیں۔ پشاور میں نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم دوست فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر محمد ایوب کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دنیا کی پچانوے فیصد افیون پیدا ہوتی ہے اور افیون ہیروئن بنانے کا اہم جز ہے۔ جب تک افغانستان میں افیون کی کاشت پر پابندی عائد نہیں کی جاتی اور قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ بحال نہیں ہوتی، پاکستان میں منشیات کے کاروبار اور استعمال میں کمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ دوست فاؤنڈیشن گزشتہ سترہ سال سے نشہ کرنے والوں کی بحالی کے لئے کام کر رہی ہے۔

پشاور اور اس کے نواح میں تین درجن سے زائد علاقے منشیات استعمال کرنے والوں کا گڑھ بن چکے ہیں۔ ان علاقوں میں ہیروئن لانے والوں کو پولیس اور مقامی انتظامیہ کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے۔ قبائلی علاقوں سے پشاور میں داخل ہونے والوں کی پہلے ہر طرح سے تلاشی لی جاتی تھی۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے منشیات کی اسمگلنگ روکنا شاید اب حکام کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہیروئن کا نشہ کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں پوست کی کاشت ختم ہوچکی ہے تاہم افغانستان اس وقت دنیا میں پوست اور اس سے ہیروئن پیدا کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔

تحریر: فریداللہ خان، پشاور

ادارت: مقبول ملک

DW.COM