1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد میں اضافہ

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں گزشتہ کئی سالوں سے خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سال اب تک وہاں ایسے 342 واقعات ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔

default

گھریلو تشدد : متاثرین بہت زیادہ، مشاورت بہت کم

سال رواں کی پہلی ششماہی کے دوران شمال مغربی پاکستان میں خواتین پر تشدد کے جتنے واقعات دیکھے گئے، ان میں سے قتل کے واقعات کی تعداد 161، اغوا کے واقعات کی تعداد 37، خود کشی کے واقعات کی تعداد 54، گھریلو تشدد کے مجرمانہ اقدامات کی تعداد بھی 54 اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی تعداد گیارہ رہی جبکہ بہت سے دیگر واقعات میں خواتین کے چہروں پر تیزاب بھی پھینکا گیا اور ان سے اجتماعی زیادتی کے بھی بہت سے واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

پختون معاشرے میں گھریلو تشدد کے اکثر واقعات رجسٹر نہیں ہوتے اور زیادہ تر کیسز میں جرگوں کے ذریعے معاملات طے کئے جاتے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لئے پاکستان میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری ملکی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی پشاور میں مقیم صوبائی عہدیدار صائمہ منیر اس بارے میں کہتی ہیں: ''پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں خواتین کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا۔ آپ کنوینشن پر کنوینشن سائن کر رہے ہیں۔ ابھی پاکستان نے سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کی ایک بین الاقوامی دستاویز پر دستخط کئے ہیں۔ صرف معاہدوں پر دستخطوں سے کام نہیں ‌چلے گا۔ جب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیاب نہیں ہو گی، طالبانائزیشن اور شدت پسندی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، تب تک کوئی بھی کنوینشن یا کوئی بھی معاہدہ ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ ہمیں ان تمام باتوں کا حل خود اپنی پارلیمان میں بیٹھ کر نکالنا ہے۔ خود اپنے لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر۔‘‘

Frauenhaus in Pakistan

تشدد کی شکار خواتین ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے

صائمہ منیر نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا: ’’قانون لاگو کرنے میں بڑے مسئلے ہیں۔ لوگوں کے روئیوں کے بھی بڑے مسائل ہیں۔ جب تک یہ ساری چیزیں ٹھیک نہیں ہوں گی، قانون سازی کے ثمرات ایک عام عورت تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہمارے ہاں روزگار کے مسائل ہیں۔ معاشی بحران ہے۔ ان تمام مسائل کے براہ راست اثرات عورتوں پرہی پڑتے ہیں۔ ایسے میں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہیں اورآج عورت پر تشدد کے واقعات میں اضافہ بھی اسی وجہ سے ہوا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ قانون سازی کے لئے مثبت انداز میں مشورے دیں۔ ہم پرامید ہیں کہ گھریلو تشدد کے خلاف قانون کا بل بھی جلد ہی آ جائے گا۔‘‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے بھی معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ دہشت گردی کی وجہ سے بےروزگاری

کی شرح بڑھ کر 44 فیصد ہوگئی ہے۔ اس کے خاندانی نظام پرانتہائی منفی اثرات پڑے ہیں۔ معاشی تنگدستی کی وجہ سے گھریلو جھگڑوں اورتشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں اس سال اب تک خواتین پر تشدد کے واقعات میں 46 فیصد اضافہ ہواہے اورقتل کی وارداتوں میں 40 فیصد۔ اب تک ایسے جملہ واقعات میں ملزمان کی گرفتاریوں اور انہیں سزائیں دلوانے کی شرح انتہائی مایوس کن حد تک کم رہی ہے۔

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM