1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خیبر پختونخوا میں سیلاب، 350 سے زائد ہلاکتیں

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں سیلابوں کے باعث جمعے کی شام تک ہلاک شدگان کی تعداد 350سے زائد ہو گئی جبکہ متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ یہی سیلاب پورے ملک میں 400 سے زیادہ شہریوں کی جان لے چکے ہیں۔

default

چارسدہ میں دس لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے

خیبر پختونخوا میں چارسدہ، نوشہرہ، مالاکنڈ، کوہاٹ اور ہزارہ ڈویژن میں سیلابی پانیوں نے سینکڑوں مکانات کو تباہ کر دیا۔ سوات میں بہت سے غیر ملکیوں سمیت 2800 سے زیادہ سیاح پھنس کر رہ گئے ہیں۔

سب سے زیادہ تباہی ضلع چارسدہ میں ہوئی، جہاں ہزاروں افراد نے گزشتہ رات کھلے آسمان کے نیچے گذاری۔ قدرتی آفات سے بچاؤ کے صوبائی محکمے کے مطابق چارسدہ میں دس لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک لاپتہ افراد کی تعداد 90 بنتی ہے۔

اس دوران سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے 826 شہریوں کی زندگیاں بچا لی گئیں۔ تاہم چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور کے سیلاب زدہ متاثرین وہاں حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ یہ شہری مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔

Karte von Pakistan mit Swat Region in gelb

ان متاثرین میں سے ایک شہری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا: ”اگرحکومت بروقت مدد کرتی تو شاید بہت سے لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ان متاثرین کی مدد کرے، جو اپنی مد د آپ کر رہے ہیں۔ حکومت کوئی کشتیاں یا ہیلی کاپٹر نہیں بھجوا رہی۔ میری اپنی بہن ڈوب رہی تھی لیکن کوئی بھی اس کی مدد کے لئے نہ آ سکا۔ حکومت کو علم ہے کہ پورا علاقہ تباہ ہو گیا ہے لیکن امدادی ادارے اور حکومتی اہلکار لوگوں کی مدد نہ کرسکے۔“

سیلابوں کی وجہ سے پشاور کا اسلام آباد اور دیگر شہروں کے ساتھ زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ جی ٹی روڈ اور موٹر وے پر متعدد پل سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں جبکہ مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ شانگلہ، دیر، سوات اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بیسیوں افراد ملبے تلے دب گئے۔

Walking in the rain

موجودہ بارشیں 1929 کے بعد سے لے کر آج تک کی سب سے تباہ کن بارشیں ثابت ہوئی ہیں

سوات میں ایوب پل پانی میں بہہ جانے کی وجہ سے ہزاروں لوگ اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ ملکی فوج کالام میں پھنسے 2800 سیاحوں کو وہاں سے نکالنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کے مختلف علاقوں میں 16 ہزار 400 کے قریب افراد سیلابی پانیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق دریائے سوات کا پانی اب نوشہرہ میں داخل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ وہاں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے نوشہرہ اور چارسدہ کے متاثرین کے لئے پشاور میں دو امدادی کیمپ قائم کر دئے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں قائم ان کیمپوں میں اب تک ڈھائی ہزار متاثرین پناہ لے چکے ہیں۔

پشاور میں صوبائی حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ موجودہ بارشیں 1929 کے بعد سے لے کر آج تک کی سب سے تباہ کن بارشیں ثابت ہوئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں اگلے 18 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے۔

رپورٹ: فریداللہ خان، پشاور

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس